کسی سے بھیک نہیں چاہیے‘ صوبے کا حق ڈنکے کی چوٹ پر لوں گا,وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-01-12
روالپنڈی (نمائندہ جسارت) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کا حق ڈنکے کی چوٹ پر لوں گا لیکن کسی سے بھیک نہیں چاہیے ، نومبر میں این ایف سے کے حوالے سے اجلاس ہوا تو ضرور جاؤں گا اور اپنے صوبے کا حق مانگوں گا۔اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا میں مارٹر گولے اور ڈرون گرنے سے ایک ہی گھر کے 21، 21 لوگ شہید ہو رہے ہیں، جن کے گھروں میں شہادتیں ہو رہی ہیں، وہی یہ درد سمجھتے ہیں،یہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، کل جو 6 اہلکار شہید ہوئے ان کے جنازے پر گیا ہوں۔صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی کی ہمدردیاں افغان باشندوں کے ساتھ کیوں ہیں؟جس پر سہیل آفریدی نے کہا کہ میری ہمدردی صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے، اگر ایک پالیسی پاکستان میں بنتی ہے تو فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں اپنے قائد سے 2 سال سے نہیں ملا، دیکھتا ہوں یہ مجھے ملنے سے کب تک روکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 3 ججز کے حکم کے باوجود آج چوتھی بار مجھے میرے لیڈر سے ملاقات سے روکا گیا، کوئی اتنا طاقتور ہے کہ آئین و قانون کو عدالتی احکامات کو مسلسل روند رہا ہے اور اس کو کسی کی پرواہ نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب تمام قانونی طریقے استعمال کرنے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملی تو اب اس پر ہم پارٹی اجلاس بلا رہے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے اور اس حوالے سے جلد لائح عمل پیش کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔