گورنر کے پی کا وزیراعلی سہیل آفریدی کو چھوٹی کابینہ تشکیل دینے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
گورنر کے پی کا وزیراعلی سہیل آفریدی کو چھوٹی کابینہ تشکیل دینے کا مشورہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس )گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلی سہیل آفریدی کو چھوٹی کابینہ تشکیل دینے کا مشورہ دے دیا۔پشاور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئیگورنر کے پی نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات تک چھوٹی کابینہ تشکیل دینی چاہیے کیونکہ کابینہ نہ ہونے کے باعث بہت سے اہم فیصلے اور فائلیں رکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی صاحب نے بانی سے ملاقات کرکے صرف منتیں کرنی ہیں، سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات ہونے تک بڑوں کی مشاورت سے چھوٹی کابینہ تشکیل دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کو وزیراعظم کے اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی، ایسے فورمزکو خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربدخشاں میں طالبان میں لڑائی، ملا ہیبت کا منحرف کمانڈر کو پکڑ کر قندھار لانے کا حکم بدخشاں میں طالبان میں لڑائی، ملا ہیبت کا منحرف کمانڈر کو پکڑ کر قندھار لانے کا حکم غزہ پر اسرائیل کی قیامت خیز بمباری، درجنوں معصوم بچوں سمیت 104 فلسطینی شہید وزیراعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب مکمل کر کے اسلام آباد پہنچ گئے چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے لبنان کے سفیر عبد العزیز عیسی سے ملاقات عالم دین کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کرنے والے افغان خارجی دہشت گرد کا اعترافی بیان سامنے آگیا عمران خان سے اجازت ملنے کے بعد سہیل آفریدی آج خیبرپختونخوا کابینہ بنائیں گےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی سہیل آفریدی کو
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔