عمران خان سے اجازت ملنے کے بعد سہیل آفریدی آج خیبرپختونخوا کابینہ بنائیں گے WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز

پشاور(آئی پی ایس )خیبرپختونخوا میں نئی صوبائی کابینہ آج تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں کابینہ مختصر رکھی جائے گی، جس میں مینا خان، شکیل خان، فیصل ترکئی، عاقب اللہ، فخر جہاں اور فضل شکور شامل ہوں گے، جبکہ مزمل اسلم کو مشیرِ خزانہ بنایا جائے گا۔پاکستان تحریکِ انصاف کے پارلیمانی اجلاس میں وزیراعلی سہیل آفریدی نے ارکانِ اسمبلی کو اعتماد میں لیا اور کابینہ کی تشکیل سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع کا حتمی فیصلہ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔سہیل آفریدی منگل کے روز کابینہ کی تشکیل پر مشاورت کے لیے راولپنڈی پہنچے تھے، مگر انہیں جیل کے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ اس سے قبل بھی انہیں دو بار ملاقات سے روکا جا چکا ہے، جس پر وزیراعلی نے مختصر دھرنا دیا تھا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وہ اس پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ان کا آئینی اور سیاسی حق ہے، کیونکہ عمران خان ہی نے انہیں وزیراعلی نامزد کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ عمران خان سے رہنمائی کے بغیر کابینہ کے ناموں کا اعلان نہیں کریں گے، تاکہ پارٹی نظم و ضبط اور قیادت کی ہدایت کے مطابق فیصلے ہوں۔

دوسری جانب، عمران خان کی ہمشیرہ عظمی خانم، جنہیں پیر کے روز عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی تھی، انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ سہیل آفریدی کے لیے اپنے بھائی کا پیغام لائی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے وزیراعلی سے کہا ہے کہ وہ کابینہ کی تشکیل میں مکمل اختیار رکھتے ہیں اور حالات کے مطابق اپنی ٹیم خود منتخب کریں۔ عمران خان نے کسی کے نام تجویز نہیں کیے، صرف یہ ہدایت دی ہے کہ ٹیم مختصر اور مثر ہو۔

عظمی خانم نے مزید بتایا کہ عمران خان نے پارٹی کے اندرونی معاملات میں تاخیر، خاص طور پر محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے آئندہ تمام پیغامات پارٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے ذریعے پہنچائے جائیں گے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

دوسری طرف صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کے باعث صوبے کے انتظامی امور مفلوج ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں سیاسی صورت حال اس وقت کشیدگی کا شکار ہے، جہاں ایک طرف وزیراعلی کو اپنی کابینہ تشکیل دینے کا دبا ہے اور دوسری طرف عمران خان سے ملاقات نہ ہو پانے پر پارٹی کے اندرونی فیصلے معطل نظر آ رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی وفد کی فضل الرحمان سے ملاقات، محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر اتفاق پی ٹی آئی وفد کی فضل الرحمان سے ملاقات، محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر اتفاق متنازعہ ٹوئٹ کیس؛ ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو گرفتار کرلیا گیا پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم فائٹر ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑی تو طالبان رجیم کو شکست دے کر دنیا کے لیے مثال بنا سکتے ہیں، وزیرِ دفاع سی ڈی اے میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، انجینئرنگ ونگ اور بلڈنگ کنٹرول میں تقرری و تبادلے ،۔نوٹیفکیشن سب نیوز پر ترکیہ کایوم جمہوریہ، صدرمملکت اور وزیراعظم کی ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سہیل آفریدی

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن