وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا: صوبے کا حق ڈنکے کی چوٹ پر لوں گا، کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفر یدی نے کہا ہے کہ وہ صوبے کے حقوق حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان میں کوئی پالیسی غلط ہوگی تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفر یدی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں مارٹر گولے اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ایک ہی گھر کے 21 افراد شہید ہو چکے ہیں، اور وہی لوگ اس درد کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز 6 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، اور ان کے جنازے پر جانے کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کندھوں پر 80 ہزار شہدا کا بوجھ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے نے دہشتگردی کے خلاف 80 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا ہے، اور فوج و پولیس کے شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ افغانستان سے آنے والی دہشتگردی کی وجہ سے یہاں مسلسل شہادتیں ہو رہی ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ پی ٹی آئی کی ہمدردیاں افغان باشندوں کے ساتھ کیوں ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ ان کی ہمدردی صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔ اگر پاکستان میں کوئی پالیسی بن رہی ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، اور اگر نومبر میں این ایف سی کے حوالے سے کوئی میٹنگ ہوئی تو وہ اپنے صوبے کے حق کے لیے ضرور جائیں گے۔ سہیل آفر یدی نے دوبارہ زور دیا کہ وہ کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے بلکہ اپنے صوبے کے حقوق ڈنکے کی چوٹ پر لیں گے۔
انہوں نے گورنر کی تبدیلی کی افواہوں پر کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے آئے ہیں اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ رہیں گے۔ علاوہ ازیں بتایا کہ خیبرپختونخوا سے اب تک 8 لاکھ افغان باشندوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ باقی کا انخلا عزت اور وقار کے ساتھ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے سابق پی ٹی آئی قائد عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹوں کے حوالے سے کہا کہ دو سال سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ انہوں نے تمام قانونی راستے استعمال کیے، خطوط لکھے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی، لیکن پھر بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ اب پارٹی اجلاس کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کے ساتھ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔