مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج، شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں معاشی اشاریوں کا جائزہ لے کر شرح سود کے تعین کا فیصلہ کیا جائے گا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ 4 مرتبہ سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔
ماہرین معیشت کا پالیسی ریٹ میں کمی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں مانیٹری حالات کو نرم کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔
سستی اورمعیاری اشیاء کا حصول پنجاب کے عوام کا حق ہے:مریم نواز
انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا دباؤ ہے، جو شرح سود کو مناسب حد تک سخت رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹیٹ بینک
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔