ایک اہم اور غیر معمولی پیشرفت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گوادر فری زونز کو فارن ایکسچینج پالیسی فریم ورک سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد گوادر سائوتھ فری زون اور گوادر نارتھ فری زون میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کو یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ چینی کرنسی کو براہ  راست پاکستانی روپے میں تبدیل کر سکیں گی جس سے ڈالر کا کردار مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔اس سے قبل گوادر فری زونز کے 2023 میں فعال ہونے کے بعد سے وہاں کام کرنے والی کمپنیوں کو چینی کرنسی اکائونٹ چلانے اور چینی کرنسی رکھنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ سابقہ قواعد کے تحت کمپنیوں کو پہلے چینی کمپنیوں کو ڈالر اور پھر ڈالر کو پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا پڑتا تھا اور اس دوہری تبدیلی کے باعث کرنسی ایکسچینج ریٹ میں کٹوتیوں کی وجہ سے کمپنیوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑرہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 11 دسمبر کو وزارتِ بحری امور کے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلی سطحی فالو اپ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکم کے تحت گوادر کے دونوں فری زونز میں کام کرنے والی چینی اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں اب فارن ایکسچینج پالیسی فریم ورک سے مستثنیٰہوں گی۔ اس فیصلے کے تحت یہ کمپنیاں خصوصی فارن کرنسی اکائونٹس برقرار رکھ سکیں گی اور اپنی آمدنی کا 50 فیصد غیر ملکی کرنسی میں تجارتی ادائیگیوں اور ترسیلات کے لیے محفوظ رکھ سکیں گی۔اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی، گوادر پورٹ اتھارٹی اور وزارتِ خزانہ کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔اس سے قبل رواں سال جون میں وفاقی حکومت نے گوادر فری زون کمپنی کو یہ تجویز دی تھی کہ خصوصی فارن کرنسی اکائونٹس میں 50 فیصد آمدنی برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے اورگوادر فری زون کمپنی نے اس تجویز کو قلیل مدتی حل کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ اس پالیسی کو 50 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد تک لے جانے کے لیے مختلف طریقوںپر بھی غور کیا گیا تھاتاکہ اسے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کے برابر لایا جا سکے۔ کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ گوادر فری زون کے لیے ایک جامع قانون مرتب کیا جائے جس میں تمام ضوابط، مراعات اور استثنیٰشامل ہوں اور اسے ایس ای زی ایکٹ 2012 کے مطابق بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان گوادر فری زون کمپنیوں کو اور اس

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم