خیبرپختونخوا میں انسداد پولیو مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیر صحت پشاور خلیق الرحمان نے انسداد پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کی پولیو ویکسین کی اخری مہم ہے جو چار دن جاری رہے گی۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں پولیو کے صفر کیسز ہوں۔ اگر کوئی کمی آتی ہے تو اس کو پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں سیکیورٹی کے مسائل ہیں وہاں بھی کوشش ہو گی کہ بہتر انداز میں کمپین چلائی جائے۔ ایک مریض کے ساتھ کئی لوگ آتے جس کی وجہ سے ہسپتال میں رش بڑھ جاتا ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ پولیو خالص صحت کا معاملہ ہے اس کو سیکورٹی کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے اضلاع جہاں سیکیورٹی خدشات پیں وہاں سیکورٹی انتظامات زیادہ کئے گئے ہیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ ڈرگ کنٹرول کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنائی گئی ہے گزشتہ ایک دو ہفتوں میں کاروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔