صائمہ کو 2 گھنٹے یرغمال بنائے رکھا‘، سنگیتا نے سیٹ پر پیش آنیوالے واقعے کی تفصیلات بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
نامور ہدایتکارہ اور فلم ساز سنگیتا نے ڈرامہ کی شوٹنگ کے دوران اداکارہ صائمہ نور کو ہراساں کیے جانے کا واقعہ بیان کردیا۔ دو روز قبل سنگیتا نے شیرا کوٹ تھانے میں دی گئی درخواست میں الزام لگایا تھاکہ ان کے ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران نامعلوم افراد نے سیٹ پر فنکاروں کو ہراساں کیا۔ جس کے بعد لاہور پریس کلب میں ہدایتکار ہ سنگیتا نے سید نور اور ڈرامے کی دیگر کاسٹ کے ہمراہ پریس کانفرس کی۔اس دوران سید نور نے کہا کہ ہم معاشرے میں لوگوں کو انٹرٹینمنٹ فراہم کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس ہمیں تکلیفیں ملتی ہیں، صائمہ کو سیٹ پر ہراساں کیا گیا اس بار تو انہوں نے بہادرانہ انداز میں مقابلہ کرلیا لیکن اگر آئندہ انہیں یا کسی اور خاتون فنکارانہ کو ہراساں کیا گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔دوسری جانب ہدایتکارہ سنگیتا نے بتایا کہ راوی میں جاری ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران احمد جہانگیر بلوچ نامی وکیل نے ان کے فنکاروں کو ہراساں کیا، اس شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈرامے کا پروڈیوسر ہے، اس نے 2 کروڑ 40 لاکھ کی سرمایہ کاری ہے لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، اس ڈرامے کی پرڈیوسر، ڈائریکٹر حتیٰ کہ فنکارہ بھی میں ہوں، میرے ساتھ اس کے پروڈیوسر طارق مہندرو ہیں، نعمان اعجاز بھی اس کاسٹ کا حصہ تھے لیکن انہوں نے اسی مسئلے کی وجہ سے اس ڈرامے میں کام کرنے سے انکار کردیا، اب ان کا بیٹا اس کاسٹ کا حصہ ہے۔ہدایتکارہ سنگیتا کے مطابق واقعے کے روز میں طبیعت خرابی کی وجہ سے سیٹ سے چلی گئی تھی جس کے بعد ان لوگوں نے اسلحے کے ساتھ سیٹ پر توڑ پھوڑ کی، فنکاروں کو ہراساں کیا، صائمہ کو کہا گیا کہ وہ اس شخص کی مرضی کے بنا سیٹ سے نہیں جاسکتی، انہیں ہتھکڑی لگائی جائے گی لیکن اس کے باوجود بھی صائمہ سیٹ سے نہیں گئی جب کہ پولیس کے پہنچنے تک وہ لوگ جاچکے تھے۔ پریس کانفرنس میں شامل کامران مجاہد کا کہنا تھا کہ ہراساں کرنے والے 8 لوگ تھے، ان کا کہناتھاکہ اگر کوئی بھی سیٹ سے گیا تو اپنے نقصان کا ذمہ دار خود ہوگا، ان لوگوں نے صائمہ کو 2 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا اس کے باوجود صائمہ کو بڑی مشکل سے سیٹ سے نکالا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کو ہراساں کیا سنگیتا نے ڈرامے کی صائمہ کو سیٹ سے سیٹ پر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔