ٹرمپ گولڈ کارڈ حاصل کرنے والے کیا فوائد حاصل کرسکیں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 11 December, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی دولت مند افراد کے لیے خصوصی اور تیز رفتار امیگریشن اسکیم ٹرمپ گولڈ کارڈ باضابطہ طور پر لانچ کر دی ہے، جس کے تحت کم از کم 10 لاکھ ڈالر (تقریبا 28 کروڑ پاکستانی روپے) کی ادائیگی پر درخواست گزاروں کو امریکا میں تیز ترین مستقل رہائش اور شہریت کا راستہ فراہم کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ کارڈ اہلیت اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد خریداروں کو براہِ راست شہریت کا راستہ فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کا مقصد امریکی کمپنیوں کو اعلی معیار اور قیمتی مہارت رکھنے والا ٹیلنٹ رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

گولڈ کارڈ ایک ایسا خصوصی امریکی ویزا ہے جو ان غیر ملکیوں کو جاری کیا جائے گا جو یہ ثابت کریں کہ وہ امریکہ کے لیے بڑا اور نمایاں فائدہ فراہم کرسکتے ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ اسکیم ایسے سرمایہ کاروں اور اعلی پیشہ ورانہ افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو امریکی معیشت میں بڑا مالی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گولڈ کارڈ ہولڈرز کو ریکارڈ مدت میں امریکی رہائش فراہم کی جائے گی، جبکہ درخواست دہندہ کو کم از کم 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری یا فیس ادا کرنا ہوگی، جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ امریکہ کے لیے نمایاں فائدہ کا باعث ہے۔

کاروباری ادارے اگر اپنے ملازمین کے لیے یہ کارڈ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں 20 لاکھ ڈالر تک کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ پلاٹینیم گولڈ کارڈ بھی جلد متعارف کرایا جائے گا، جس کی قیمت 50 لاکھ ڈالر ہو گی اور اس میں خصوصی ٹیکس مراعات بھی شامل ہوں گی۔

درخواست جمع کرانے کے بعد ہر فرد کو 15 ہزار ڈالر کی ناقابلِ واپسی پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ اضافی فیس ہر درخواست گزار کے حالات کے مطابق الگ سے لی جا سکتی ہے۔ فروری میں پہلی مرتبہ اعلان کے بعد سے ڈیموکریٹس کی جانب سے اس اسکیم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام امیر طبقے کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دیتا ہے، جبکہ عام تارکینِ وطن پر پابندیاں دن بدن سخت کی جا رہی ہیں۔

ٹرمپ نے اعلان کے وقت گولڈ کارڈ کو گرین کارڈ سے تشبیہ دی تھی، جو مختلف آمدنی رکھنے والے افراد کو امریکہ میں رہائش اور کام کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم گولڈ کارڈ صرف اعلی سطح کے پیشہ ور افراد کے لیے مختص ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایسے لوگوں کو چاہتے ہیں جو پیداوار اور ملک کے لیے فائدہ مند ہوں۔ ان کے مطابق 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے والا شخص نوکریاں پیدا کرے گا اور یہ اسکیم بہت تیزی سے فروخت ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیب اور اینٹی کرپشن موثر ہوں تو محتسب کے بوجھ میں کمی آئے: اعجاز قریشی نیب اور اینٹی کرپشن موثر ہوں تو محتسب کے بوجھ میں کمی آئے: اعجاز قریشی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026: ٹکٹس خریدنے کے خواہشمند شائقین کیلیے بڑی خوشخبری فیض حمید کے ساتھ اگر کوئی اور ملوث ہوگا تو ان کو بھی سزا ملے گی، گورنر کے پی امریکا نے پاک فضائیہ کے ایف۔16 بیڑے کیلیے 686 ملین ڈالر کے اپ گریڈ پیکیج کی منظوری دے دی ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا: سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر فیض حمید کیخلاف فیصلہ حق کی فتح ہے: عطا تارڑ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: گولڈ کارڈ

پڑھیں:

بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا

پشاور: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام قسط سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ قسط سے مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی مجاز ریٹیلر یا بینکنگ ایجنٹ کے ذریعے اپنی رقم آسانی سے وصول کر سکیں گی۔

یہ اعلان انہوں نے پشاور کے مولوی امیر شاہ میموریل اسپتال میں قائم بینظیر نشوونما سہولتی مرکز کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔

ادائیگیوں کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ ادارہ ادائیگیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق نئے نظام کے نفاذ سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور مستحق خواتین کو ان کی رقم بغیر کسی کٹوتی کے براہِ راست مل سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام قسط کی ادائیگی کے عمل کو مزید آسان اور محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مستحقین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ڈیجیٹل سم اور والٹ کی سہولت

روبینہ خالد کے مطابق بی آئی ایس پی کی مخصوص ڈیجیٹل سم متعارف کرائی جا چکی ہے، جو صرف مجاز دفاتر کے ذریعے جاری کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے انہیں ادائیگیوں اور قسطوں سے متعلق تمام اہم معلومات بروقت موصول ہوں گی۔

جعلی پیغامات سے ہوشیار رہنے کی ہدایت

چیئرپرسن نے مستحقین کو خبردار کیا کہ بی آئی ایس پی کے نام پر موصول ہونے والے غیر مصدقہ پیغامات اور کالز پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ فراڈ اور دھوکا دہی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ غریب اور مستحق خواتین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ پروگرام سے متعلق کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل ادارے سے تصدیق ضرور کی جائے تاکہ غلط معلومات پھیلنے سے بچا جا سکے۔

1 کروڑ سے زائد خاندان مستفید

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام ماں اور بچے کی صحت اور غذائیت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن