امریکا نے امیر تارکین وطن کے لیے گولڈ کارڈ ویزا اسکیم متعارف کرادی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
امریکا نے امیر تارکین وطن کے لیے گولڈ کارڈ ویزا اسکیم متعارف کرادی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیر تارکین وطن کے لیے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے خوشحال افراد ایک ملین ڈالر ادا کرکے امریکا کا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرسکیں گے، اس کے ساتھ 5 ملین ڈالر مالیت کا پلاٹینم کارڈ بھی جلد متعارف کرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای گولڈن ویزا حاصل کرنے والوں کو کونسی اہم سہولیات دے رہا ہے، حیران کن فہرست سامنے آگئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق گولڈ کارڈ کے خواہشمند افراد کو ہوم لینڈ سیکیورٹی کو 15 ہزار ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی، بیک گراؤنڈ چیک مکمل کرانا ہوگا اور ایک ملین ڈالر کی ادائیگی کے بعد انہیں ریکارڈ وقت میں امریکی رہائش مل سکے گی۔
رواں سال ستمبر میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت انفرادی درخواست گزاروں کے لیے ایک ملین ڈالر جبکہ کمپنیوں کے لیے اپنے ملازمین کی اسپانسرشپ پر 2 ملین ڈالر مقرر کیے گئے ہیں۔ کمپنیاں اس کے علاوہ ہر سال 20 ہزار ڈالر کی سالانہ فیس اور کسی ملازم کو ٹرانسفر کرنے کی صورت میں ایک لاکھ ڈالر کی فیس بھی ادا کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بحرین کا گولڈن ویزا کن پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟
یہ پروگرام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم امریکا کی اس روایتی شبیہ سے متصادم ہے جس میں اسے کم آمدنی والے محنت کش افراد کے لیے پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔
سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پانچ ملین ڈالر کا ٹرمپ پلاٹینم کارڈ بھی جلد دستیاب ہوگا جس کے حاملین سال میں 270 دن تک امریکا میں رہ کر بھی غیر ملکی آمدن پر امریکی ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امیر تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ گولڈن ویزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ گولڈن ویزا امیر تارکین وطن گولڈ کارڈ ملین ڈالر کے لیے
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر