پولیو کے خاتمے کےلئے پاکستان کا 15 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز مختص کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی : پاکستان نے ابوظبی میں ہائی لیول پلیجنگ مومنٹ کے دوران پولیو کے خاتمے کے لیے 639.54 ملین ڈالر کا اعلان کر دیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، ایچ ای احسن اقبال چوہدری نے آج ابوظبی میں منعقدہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہائی لیول پلیجنگ مومنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ یہ تقریب متحدہ عرب امارات کی حکومت نے محمد بن زاید فاؤنڈیشن فار ہیومینیٹی اور گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کے اشتراک سے منعقد کی۔
عالمی عطیہ دہندگان نے پولیو مہم کے لیے 1.
اس حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسدادِ پولیو ویکسین مہم تیز کر دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے صدر مملکت متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید النہیان کی پولیو سے لاکھوں بچوں کو محفوظ بنانے کی مسلسل کاوشوں اور پاکستان کے ساتھ اعتماد، انسانیت اور مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر قائم مضبوط شراکت داری پر شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پولیو کا خاتمہ آنے والی نسلوں کے لیے اخلاقی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے، اور پاکستان اس فرض کو یکجہتی، عزم اور قومی ارادے کے ساتھ پورا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں وائرس کا پھیلاو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہے، ویکسینیشن کے معیار میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، نگرانی کا نظام مضبوط ترین سطح پر ہے، اور کمیونٹی کا اعتماد بھی مزید بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیو کے خاتمے کے لیے وفاقی وزیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔