سڈنی بیچ حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے، پولیس نے مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہ کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو پولیس نے دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔
پولیس کے مطابق حملے میں ملوث افراد باپ بیٹا تھے، جن میں سے ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ فائرنگ یہودی برادری کی ایک تقریب کے دوران کی گئی۔ ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور زخمی حملہ آور کی شناخت 24 سالہ نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ساجد اکرم گزشتہ 10 برس سے اسلحہ لائسنس کا حامل تھا اور ایک گن کلب کا باقاعدہ رکن بھی تھا۔ اس کے قبضے سے چھ ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں، جن کے فائرنگ واقعے میں استعمال ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب سے دو فعال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیے، جنہیں محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید کسی حملہ آور کی تلاش ختم کر دی گئی ہے، تاہم واقعے کے محرکات اور پس منظر کی تحقیقات جاری ہیں۔
فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے کے بعد آسٹریلوی حکومت نے یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔