سڈنی میں یہودیوں کی تقریب پرفائرنگ ،12ہلاک، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251215-01-22
سڈنی / اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر یہودیوں کے تہوار کی تقریب کے دوران فائرنگ سے 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے،فائرنگ کا واقعہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر پیش آیا،جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جسے احمد نامی مسلمان نے دبوچ کرگرادیا تھا، ملزمان کی گاڑی سے دھماکاخیرمواد بھی برآمد ہوا ہے، آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ سڈنی حملہ دہشت گردی ہے جس میں صرف یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا،انہوں نے یہودی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ واقعے کی پاکستان سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے۔صدرآصف زرداری نے فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے جبکہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، ہم اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر پیش آیا جہاں 2 مسلح افراد نے شہریوں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 2پولیس اہلکاروں سمیت 29 افراد زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک فائرنگ کرنے والا بھی شامل بھی جبکہ دوسرے حملہ آور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کا بتانا ہے کہ فائرنگ کاواقعہ یہودیوں کے تہوار کی تقریب کے دوران پیش آیا جبکہ فائرنگ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مقامی آبادی کو بونڈی بیچ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں فائرنگ کرنے والا ایک شخص مارا گیا اور دوسرے حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا جبکہ فائرنگ کرنے والے کی گاڑی سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی ہے جو سڈنی کا رہائشی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعے میں اسرائیلی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہاکہ سڈنی فائرنگ واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں اسرائیلی شہری بھی شامل ہے۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک حملہ آور کو وہاں موجود ایک شہری نے اپنی جان پر کھیل کر بہادری سے پکڑا اور اس کا اسلحہ چھین کر متعدد لوگوں کی جانیں بچائیں۔ آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بہادر شہری کی شناخت 43 سالہ احمد ال احمد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ سڈنی میں دکان پر پھل فروخت کرتے ہیں اور 2 بچوں کے والد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور پر قابو پانے کی کوشش میں خود احمد کو بھی بازو پر 2 گولیاں لگیں، وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ادھر آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے سڈنی کے ساحل بونڈی پر ہونے والے حملے کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اسے یہودیوں پر حملہ قرار دے دیا۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے سڈنی کے ساحل پر اتوار کی شام ہونے والے مسلح افراد کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بونڈی میں یہودی کمیونٹی جمع ہوکر اپنا مذہبی تہوار حنوکا جوش و خروش سے منارہی تھی، دہشت گرد حملے میں صرف یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا اور مرنے والے بیشتر آسٹریلوی شہری تھے۔ انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آئندہ تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہودی کمیونٹی سمیت آسٹریلیا کے تمام لوگوں کو قومی اتحاد کے ذریعے تحفظ فراہم کریں گے۔ البانیز نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا اور کہا کہ فوری ایکشن کی وجہ سے بہت ساری جانیں بچ گئیں۔ علاوہ ازیں واقعے کی پاکستان سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے ، صدر مملکت آصف علی زرداری نے فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے سڈنی کے ساحل پر فائرنگ سے جان بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں، بشمول واقعے پر کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ سڈنی میں ہونے والے المناک دہشت گردانہ حملے کے متاثرین سے تعزیت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، ہم اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے آسٹریلیا میں سڈنی کے ساحل پر پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں آسٹریلوی وزیراعظم، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلیے دعا گو ہوں۔ وزیرداخلہ نے لکھا کہ دہشت گردی خالص برائی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف ناقابل معافی جرم ہے اور اس خطرے کا پاکستان کو ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہم آسٹریلوی عوام کے درد کو سمجھتے ہیں۔
سڈنی کے ساحل بونڈی میں یہودیوں کے مذہبی تہوار کی تقریب کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونیوالوں کو اسپتال منتقل کیا جارہاہے، ان سیٹ میں آسٹریلوی شہری احمد الاحمدکا حملہ آور کو دبوچنے کا منظر جبکہ کالے کپڑوں میں ملبوس حملہ آور اسلحہ اٹھائے کھڑا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سڈنی کے ساحل پر کی جلد صحت یابی یہودی کمیونٹی ا سٹریلیا کے حملہ ا ور کو ا سٹریلوی ہونے والے کرتے ہوئے واقعے میں کی تقریب افراد کے کا اظہار کے دوران کے مطابق کہ سڈنی سے دلی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔