data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کینبرا میں آسٹریلوی وزیراعظم نے سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد ہتھیاروں سے متعلق قوانین سخت کرنے اور دیگر اہم اقدامات اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گن لائسنس کو تاحیات رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سڈنی کے علاقے بونڈی بیچ پر گزشتہ روز دو افراد نے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 15 افراد جان سے گئے جبکہ تقریباً 40 افراد زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک کے پاس چھ ہتھیار رکھنے کا لائسنس موجود تھا، جو موجودہ قوانین پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہتھیاروں کے قوانین میں سختی سمیت ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

سڈنی حملے سے متعلق آسٹریلوی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملے میں ملوث شخص اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا جبکہ اس کا بیٹا آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا۔ واقعے پر ملک بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان