سڈنی فائرنگ واقعہ: بھارت اور افغانستان کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت اور افغانستان نے سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے منظم پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سڈنی میں مقیم پاکستانی نوجوان نوید اکرم کو جھوٹے طور پر حملہ آور قرار دیا گیا، جس سے گمراہ کن تاثر پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
نوید اکرم نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اس پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کی تصویر اور نام استعمال کر کے جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا تشدد کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور اس بے بنیاد مہم نے ان کی ذاتی سلامتی اور ساکھ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
نوید اکرم نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کو فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبریں نہ صرف افراد بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحلی علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق واقعہ دہشت گردی نہیں تھا اور حملہ آور باپ بیٹا نکلے، جس کے بعد مزید ملزمان کی تلاش ختم کر دی گئی۔
دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے بتایا ہے کہ واقعے کے دوران ایک شہری احمد ال احمد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک حملہ آور کو قابو کیا اور اس سے اسلحہ چھین لیا، جس سے کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔ 43 سالہ احمد ال احمد، جو سڈنی میں دکان پر پھل فروخت کرتے ہیں، خود بھی زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حملہ آور
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔