سہیل آفریدی کا عمران خان سے ملاقات اور مختصر کابینہ تشکیل دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں، جبکہ مختصر کابینہ آج انتخابات کے بعد تشکیل دی جائے گی۔ ان کے مطابق کابینہ کی تشکیل میں کسی قسم کی رکاوٹ موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی، سہیل آفریدی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط
انہوں نے کہا کہ پارٹی کا کوئی بھی رکن سلپ نہیں ہوا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ توہینِ عدالت کی درخواست آج دائر کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم گڈ گورننس کی وجہ سے تیسری بار حکومت میں آئے ہیں، عوام کا ہم پر اور ہمارے بانی پر اعتماد ہے۔
سہیل آفریدی نے کولیٹرل ڈیمیج کے حوالے سے کہا کہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے، اور اس مسئلے کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
پاک افغان مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہیں لیکن ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، حالانکہ ہم اہم اسٹیک ہولڈر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایک حوالدار 3 ججوں کے احکامات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے، سہیل آفریدی
ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس کی جانب سے سخت الفاظ میں دھمکیاں دی جا چکی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے اور تنہائی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایک دشمن پہلے سے موجود ہے جو ہمیں ختم کرنے کا سوچتا رہتا ہے۔ عوام کے فیصلے بند کمروں میں نہیں ہونے چاہییں، کیونکہ اگر فیصلے خفیہ طور پر کیے گئے تو دہشتگردی کی جنگ جیتنا ممکن نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک شخص دہشتگردوں کو ہیرو، دوسرا مجاہد، اور تیسرا ان کے خلاف آپریشن کرتا ہے۔ کوئی انہیں آباد کرنے کا سوچتا ہے، یہ تجربات اب بند ہونے چاہییں۔ ملک کوئی تجربہ گاہ نہیں، ایک واضح اور مستقل پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ 22 فوجی آپریشنز کے باوجود دہشتگردی کا سلسلہ کیوں ختم نہیں ہوا؟ اور کہا کہ اب پالیسی کی یکسانیت اور قومی اتفاقِ رائے کے بغیر امن ممکن نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پاک افغان مذاکرات دہشتگردی سہیل آفریدی عمران خان کابینہ وزیراعلیٰ کے پی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان مذاکرات دہشتگردی سہیل ا فریدی کابینہ وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے سہیل ا فریدی کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔