وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آوارہ گفتگو کرتے ہیں اور وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو چیک کروانے کی ضرورت ہے۔

رانا ثنااللہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ وہ تقریر میں کچھ اور کہتے ہیں، عمل میں کچھ اور۔ ان کے ساتھ نفسیاتی مسئلہ ہے، انہیں چیک اپ کروانا چاہیے۔

’عمران خان سے سیاسی مشاورت کی اجازت نہیں‘

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت کرنا چاہتے ہیں تو یہ قانونی طور پر ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا ’رولز میں بڑی واضح قدغن ہے کہ قید میں موجود کسی شخص کے ساتھ سیاسی مشاورت نہیں کی جا سکتی۔‘

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اپنی صوبائی کابینہ کے قیام سے قبل عمران خان سے سیاسی رہنمائی کے خواہاں ہیں۔

پی ٹی آئی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ عمران خان پارٹی کے بانی اور مرکزی رہنما ہیں، اس لیے ان سے مشاورت پارٹی آئین کے مطابق ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل آفریدی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن