خیبر پختونخوا کابینہ نے اساتذہ کیلئے ای ٹرانسفر پالیسی 2025 کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا کابینہ نے محکمہ تعلیم میں اساتذہ کیلئے ای ٹرانسفر پالیسی 2025 کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے بانی پاکستان تحریک انصاف کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کی بالادستی یقینی ہوگی، ای ٹرانسفر پالیسی وقت کی اشد ضرورت تھی، اساتذہ اپنی توجہ تعلیم کے اصل مقصد پر مرکوز رکھ سکیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر پابندی عائد ہے، 200 سے زائد سفارشیں موصول ہوئیں لیکن کسی کو بھی تسلیم نہیں کیا، نئی ای ٹرانسفر پالیسی میں موجودہ اسکول میں مدتِ تعیناتی، اسٹوڈنٹ ٹیچر ریشو اور سالانہ نتائج اہم اشاریے شامل ہیں۔ معذوری، بیوہ، علیحدگی اور شوہر/بیوی کی تعیناتی کو بھی ای ٹرانسفر پالیسی میں وزن دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے دیگر تمام محکموں کو بھی میرٹ پر مبنی ٹرانسفر پالیسی متعارف کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم ہماری اولین ترجیحات ہیں، کمزور محکمے مستقبل اور صحت سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرانسفر پالیسی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔