فیض حمید کو سزا آئین پاکستان کی فتح، قانون کی سربلندی کا اعلان ہے، طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ فیض حمید کو سزا سے آئین کی فتح ہوئی ہے اور یہ قانون کی سربلندی کا اعلان ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ فیض حمید کو اپنی مرضی کے مطابق لیگل ٹیم کی اجازت دی گئی، انہوں نے اپنی پسند کے وکیل منتخب کیے، جنہوں نے 15 ماہ تک وکیلِ صفائی کی حیثیت سے قانونی پراسیس میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ فیض حمید پر جو 4 الزامات لگائے گئے تھے وہ سارے سچ ثابت ہوئے اور انہیں 14 ماہ کی سزا بامشقت سنائی گئی ہے، یہ سزا ان الزامات پر دی جانے والی سزا کا فیز ون ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ تو حکومت کی فتح ہے، نہ یہ کسی جماعت کی فتح ہے، نہ اس میں کسی نے خوشی کے شادیانے بجائے ہیں، یہ کم از کم مسلم لیگ ن کا شیوہ نہیں ہے، مگر یہ میں ضرور کہوں گا کہ یہ آئین کی فتح ہے، یہ قانون کی سربلندی کا اعلان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئین سزا طارق فضل فیض حمید قانون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیض حمید فیض حمید کی فتح
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔