کینیا کی ماحولیاتی کارکن نے درخت کو 72 گھنٹے گلے لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینیا کی معروف ماحولیاتی کارکن تروفینا متھونی نے ماحول کے تحفظ کے لیے ایک منفرد اور حیران کن کارنامہ انجام دیتے ہوئے 72 گھنٹے تک ایک درخت کو گلے لگا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کینیا کی معروف ماحولیاتی کارکن تروفینا متھونی نے یہ چیلنج نیری کے قصبے میں سرکاری احاطے میں موجود ایک قدیم اور مقامی درخت کے پاس انجام دیا، جہاں ہر لمحے متھونی کے ساتھ ان کے معاونین اور حامی موجود رہے، جو انہیں حوصلہ دیتے اور سہارا فراہم کرتے رہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایک موقع پر نیند کے غلبے میں متھونی لڑکھڑائی، مگر فوراً مدد کرنے والے ساتھیوں نے انہیں سنبھالا، اس کارنامے کی تصدیق کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مبصرین بھی موجود تھے، جن کی فیس متھونی کی ٹیم نے ادا کی تھی۔
اس غیر معمولی مہم کے ذریعے انہوں نے نہ صرف اپنے سابقہ 48 گھنٹے کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑا بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کا پیغام بھی دیا۔
تروفینا متھونی نے اس اقدام کو ایک “انسانیت کو جگانے والا پرامن پیغام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر مظاہروں میں بدنظمی اور احتجاج کی منفی خبریں سننے کو ملتی ہیں، مگر درخت کو گلے لگانے والا یہ علامتی احتجاج اختلافات سے بالاتر ہوکر سب کو یکجہتی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اس موقع پر ان کا مخصوص لباس بھی توجہ کا مرکز رہا۔ سیاہ رنگ افریقی طاقت، مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت تھا، سبز رنگ جنگلات کی بحالی، امید اور نئی زندگی کی نمائندگی کرتا تھا جبکہ سرخ رنگ مقامی کمیونٹیز کی جدوجہد اور حوصلے کی علامت تھا۔ نیلا رنگ پانی اور سمندروں کے محافظوں کی نمائندگی کرتا تھا، جو ماحولیات کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔
متھونی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی خطرات کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ان کی یہ منفرد مہم ثابت کرتی ہے کہ ماحول کے لیے جدوجہد کے لیے ضروری نہیں کہ احتجاج شور و غل میں ہو، بلکہ پرامن اور تخلیقی اقدامات بھی اتنے ہی مؤثر ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔