پی آئی اے شیئرز کی قیمت میں بڑا اضافہ، سٹاک ایکسچینج نے وضاحت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پی آئی اے کے شیئر کی قیمت اور ٹریڈنگ والیوم میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد پی ایس ایکس نے قومی ایئر لائن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی ہے۔
نوٹس کے جواب میں پی آئی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمیں ایسی کسی نئی پیش رفت کا علم نہیں جو حصص کی قیمت پر اثر انداز ہوئی ہو۔ حکام کے مطابق کمپنی کے پاس کوئی ایسی معلومات نہیں جو اس تیزی کی وجہ بتا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں پی آئی اے کے شیئر کی قیمت میں 100 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دو ماہ قبل 23 روپے میں ٹریڈ ہونے والا شیئر اب 46 روپے تک پہنچ چکا ہے، جب کہ ٹریڈنگ والیوم میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے 23 دسمبر کو پی آئی اے کی نیلامی کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد سے سرمایہ کاروں کی جانب سے اس اسٹاک میں بڑھتی دلچسپی نوٹ کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے کی قیمت
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔