سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے آپ نے بیرئیر کھڑے کیے ہیں، میں کسی دوسرے ملک کا وزیراعلیٰ نہیں آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ ہے میں وہاں کا وزیراعلیٰ ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ فیض حمید ایک ادارے کا ملازم ہے، اگر کسی معاملے پر انہیں سزا ہوئی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ بات انہوں نے اڈیالہ جیل جاتے ہوئے راولپنڈی پولیس کی جانب سے داہگل ناکے پر روکے جانے پر پولیس افسران سے کہی۔ وزیراعلیٰ نے پولیس افسران سے کہا کہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کے لیے آپ بارڈر لگا رہے ہیں، آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں ؟ پرسوں بھی روکا ہے آج بھی۔ انہوں نے کہا کہ پرسوں خواتین کے ساتھ آپ نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا، عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی خواتین ہیں، آپ لوگوں کو یہ آرڈرز کون دیتا ہے؟ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے آپ نے بیرئیر کھڑے کیے ہیں، میں کسی دوسرے ملک کا وزیراعلیٰ نہیں آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ ہے میں وہاں کا وزیراعلیٰ ہوں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم یہاں آتے ہیں آرام سے بیٹھتے ہیں کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتے، آپ لوگ کیا دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہو کہ کے پی پاکستان کا حصہ نہیں؟ آپ لوگ حالات کو کہاں لے جارہے ہیں؟ اپنے بڑوں کو سمجھائیں اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے احکامات پر یہ سب کیا گیا، بانی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا، بانی کو قید تنہائی میں رکھا گیا یہ یاد رکھا جائے گا، یہ لوگ تصدیق شدید چور ہیں، جب ہماری حکومت آئے گی اس کا حساب کتاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال سے کوشش کی جارہی ہے مائنس عمران خان کیا جائے، یہ 1947ء سے ایک ہی نسخہ بار بار آزماتے ہیں، نو اپریل 2022ء سے ان کا واسطہ ایسی قوم سے پڑا ہے جو بانی سے عشق کرتے ہیں، صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو آئیں ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ کسی کے باپ کا نہیں ہمارا پاکستان ہے، ہم آزاد عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں، یہ کون ہوتے ہیں ہمیں بتائیں گے کس وقت تک بیٹھنا ہے کس وقت تک نہیں؟ مذاکرات کا اختیار بانی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دیا ہے ہم محمود خان اچکزئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ فیض حمید کی سزا پر انہوں نے کہا کہ فیض حمید ایک ادارے کا ملازم ہے اگر کسی معاملے پر انہیں سزا ہوئی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، حکومت کی کارکردگی یہ ہے نوجوان پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، ساڑھے تین سال سے کیا جانے والا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے، پاکستان تباہی کی طرف جارہا ہے، ہمارا کسی سے کوئی بغض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، میرا اپنے لیڈر سے ملنے آتا ہوں یہ میرا جمہوری حق ہے مگر میرا پاسپورٹ انہوں نے کنٹرول لسٹ پر ڈالا ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سہیل ا فریدی کا وزیراعلی رہے ہیں لوگ کیا آپ لوگ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا