آئیں ہم سب مل کر بدعنوانی کے خاتمے کا عہد کریں، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن پر پیغام میں سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کسی بھی ملک کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے جو قوموں کو ان کی حقیقی صلاحیتوں سے محروم کر دیتی ہے، سندھ حکومت نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت محکمہ E&ACE کو مکمل طور پر فعال کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کرپشن ایک وباء ہے جو پورے معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن بدعنوانی کے خلاف عالمی کوششوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت احتسابی نظام، شفاف طرزِ حکمرانی اور میرٹ پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے واضح اور سخت احکامات دیئے ہیں۔ مراد علی شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ بدعنوانی کسی بھی ملک کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے جو قوموں کو ان کی حقیقی صلاحیتوں سے محروم کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت محکمہ E&ACE کو مکمل طور پر فعال کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں بدعنوانی کے خلاف عوامی شکایات کے لیے آن لائن کمپلینٹ سسٹم قائم ہے جس کے ذریعے شہری آسانی سے شکایات درج کرا سکتے ہیں، جب کہ تمام کیسز کی شفاف نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سب رجسٹرار دفاتر میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس سے کرپشن میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومتِ سندھ نے فروری 2025ء میں سب رجسٹرار دفاتر میں بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے ریکارڈ کی جامع جانچ پڑتال کے بعد 4 سب رجسٹرار سمیت 7 افسران کو کرپشن ثابت ہونے پر ملازمتوں سے برطرف کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر گورننس اور شفافیت کے لیے EPAD سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے جس سے محکموں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور عوام کا اعتماد بڑھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بدعنوانی کے خلاف میں بدعنوانی کے نے کہا کہ انہوں نے کے خاتمے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔