اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر انسانی حقوق کے دن سے چند لمحے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں پر پولیس کے تشدد اور واٹر کینن کے استعمال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان میں قانون، آئین اور بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال ہو چکے ہیں۔ عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، اور نہتی، باپردہ بزرگ خواتین کو بالوں سے گھسیٹا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے اور ریاستی طاقت سے دبایا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی، لیگی رکن صوبیہ شاہد آرمی چیف کی تصویر لے آئیں، اجلاس ملتوی کردیا گیا

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ توہین صرف عمران خان کی بہنوں کی نہیں، بلکہ پاکستان کی ہر ماں اور بہن کی بے حرمتی ہے۔ ایسا ظلم قرآن، آئین اور عالمی انسانی حقوق کے ہر اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا؛ ایک وقت آئے گا جب قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور ظالموں کو ان کے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہم آئین، انصاف، آزاد انتخابات اور قومی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں تاکہ ملک کو اس بند گلی سے نکالا جا سکے۔ لیکن اگر اب بھی راستہ نہ چُنا گیا تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ہم سچ، عزتِ نفس اور انسانی کرامت کے راستے پر قائم رہیں گے،اور اللہ ہی ہماری آخری امید ہے۔

ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلیمنٹری ایجوکیشن) پنجاب شاہدہ سہیل کا میانوالی کے تعلیمی اداروں کا دورہ، صورتحال کا جائزہ لیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن