واٹر کینن کا استعمال عمران خان کی بہنوں کی نہیں پاکستان کی ہر ماں اور بہن کی بے حرمتی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر انسانی حقوق کے دن سے چند لمحے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں پر پولیس کے تشدد اور واٹر کینن کے استعمال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان میں قانون، آئین اور بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال ہو چکے ہیں۔ عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، اور نہتی، باپردہ بزرگ خواتین کو بالوں سے گھسیٹا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے اور ریاستی طاقت سے دبایا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی، لیگی رکن صوبیہ شاہد آرمی چیف کی تصویر لے آئیں، اجلاس ملتوی کردیا گیا
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ توہین صرف عمران خان کی بہنوں کی نہیں، بلکہ پاکستان کی ہر ماں اور بہن کی بے حرمتی ہے۔ ایسا ظلم قرآن، آئین اور عالمی انسانی حقوق کے ہر اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا؛ ایک وقت آئے گا جب قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور ظالموں کو ان کے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہم آئین، انصاف، آزاد انتخابات اور قومی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں تاکہ ملک کو اس بند گلی سے نکالا جا سکے۔ لیکن اگر اب بھی راستہ نہ چُنا گیا تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ہم سچ، عزتِ نفس اور انسانی کرامت کے راستے پر قائم رہیں گے،اور اللہ ہی ہماری آخری امید ہے۔
ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلیمنٹری ایجوکیشن) پنجاب شاہدہ سہیل کا میانوالی کے تعلیمی اداروں کا دورہ، صورتحال کا جائزہ لیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
اڈیالا جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی زوجہ محترمہ کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اسلام ٹائمز۔ اڈیالا جیل راولپنڈی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، شفیع جان، مینا خان آفریدی فیکڑی ناکے پر موجود رہے، بانی کی تینوں بہنیں کارکنان کی کثیر تعداد کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر موجود رہیں۔