اسلامی اقدار کے فروغ اور عوامی حقوق کے تحفظ کے بغیر ملک میں پائیدار استحکام ممکن نہیں، علامہ شبیر میثمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
آئی ٹی پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کارکنان اور قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس منشور کو مضبوطی سے تھامیں اور گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں انصاف، استحکام اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے متحد رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے پارٹی کے پانچ نکاتی منشور کو قوم کی امیدوں اور ملک کے مستقبل کا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی، استحکام اور وحدت کا دار و مدار آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ایک منصفانہ نظام کے قیام پر ہے، جب تک انصاف ہر شہری کے در تک نہیں پہنچتا، مساوات اور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اسلامی تحریک پاکستان کا منشور کسی ایک جماعت کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے اجتماعی مفاد کے لیے ہے، ہمارا منشور ان اصولوں پر قائم ہے، جس میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عادلانہ نظام کا قیام، عوام کے حقوق کا تحفظ، اسلامی اقدار کا فروغ شامل ہے۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ اسلامی اقدار ہماری تہذیب اور ریاست کا بنیادی حصہ ہیں، جنہیں مضبوط کیے بغیر معاشرتی اصلاح ممکن نہیں، عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے، اسلامی تحریک پاکستان ظلم و ناانصافی کے خلاف ہر محاذ پر آواز بلند کرتی رہے گی اور ایک ایسے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی، جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باوقار اور مساوی حقوق کا حامل محسوس کرے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل نے کارکنان اور قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس منشور کو مضبوطی سے تھامیں اور گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں انصاف، استحکام اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے متحد رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی اقدار کہا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ