مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں نے ملک کو معاشی عدم استحکام سے دوچار کیا، شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں نے ملک کو شدید معاشی عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاج کے حوالے سے پارٹی عمران خان کے پیغام کی منتظر ہے، شفیع جان
شفیع جان نے مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی کی پی ٹی آئی مخالف پریس کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے نے ایک ہارے ہوئے شخص کو پی ٹی آئی کے خلاف بہتان تراشی کے لیے بھرتی کررکھا ہے۔
شفیع جان کے مطابق اختیار ولی ایک غیر سنجیدہ شخص ہے جو روزانہ ایک منتخب وزیر اعلی کے خلاف پراپیگنڈہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیار ولی اور ان کی جماعت انتشاری ذہنیت کی مالک ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ جعلی کوآرڈینیٹر کو نوشہرہ کے عوام نے مسترد کر کے اس کی اصل سیاسی حیثیت یاد دلا دی ہے۔ ان کے مطابق یہ شخص امیر مقام کی ناراضی اور غصہ پی ٹی آئی پر الزام تراشیوں کی صورت میں نکال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امن جرگہ کے حوالے سے فائنل ڈرافٹ تیار، تمام فریقین کو اعتماد میں لے لیا گیا، شفیع جان
معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں نے ملک کو شدید معاشی عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے اپنی کرپشن چھپانے پر مرکوز ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ پاکستانی عوام باشعور ہیں، روزانہ کی جھوٹی اور من گھڑت پریس کانفرنسوں سے قوم کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مسلم لیگ ن کی نیندیں حرام کردی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر قابض سیاسی ٹولے نے پی ٹی آئی کے خلاف ظلم اور جبر کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر شدید سردی میں علیمہ خان، کارکنوں اور پارلیمنٹرینز پر واٹر کینن کا استعمال اس کی تازہ مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والے منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں، اختیار ولی کا دعویٰ
شفیع جان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی مسلم لیگ ن کے اوچھے ہتھکنڈوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اختیار ولی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شفیع جان مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختیار ولی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی شفیع جان مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن کی شفیع جان نے اختیار ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔