data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و انسانی وسائل سندھ /چیئرمین گورننگ باڈی سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سعید غنی نے کہا ہے کہ مزدوروں اور محنت کشوں کو صحت کی اعلیٰ اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لئے اسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اقدامات کئے جائیں۔ سیسی کے تحت ایک مکمل سہولیات سے بھرپور کینسر اسپتال کی بھی فزیبلٹی بنائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیسی کی گورننگ باڈی کے 175 ویں کی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں سیکرٹری محنت اسد اللہ ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، اراکین گورننگ باڈی سیسی انجنئیر عبدالجبار میمن، دانش خان ، محمد خان ابڑو، عبد الوحید شورو، زہرہ خان، مختار حسین اعوان، میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سعادت میمن، ڈائریکٹر کنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ ڈاکٹر غلام دستگیر، ڈائریکٹر پبلک ریلیشن وسیم جمال بھی موجود تھے۔

اجلاس میں گلشن اقبال اور ملیر میں سیسی کے دو نئے ڈائریکٹوریٹ اور اس کے ساتھ دو ڈسپنسری کے فوری قیام کی منظوری دی گئی، عمارت کی تعمیر سے قبل کرایہ کی جگہ پر کام کا آغاز کرنے کے لئے فی الحال ان دفاتر کے کرایہ کی منظوری بھی دی گئی ۔ اجلاس میں سیسی سروس رولز 2023 کے گزٹ نوٹیفیکیشن میں سنگین بے ضابطگیوں پر موجودہ رولز کو فوری طور منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا.

اجلاس میں سیسی ملازمین کی سنیارٹی اور ملازمت کے دیگر تمام معاملات کو سیکرٹری محنت کی سربراہی میں اپیلیٹ کمیٹی کے سپرد کے سپرد کردیا گیا، سیسی کے ریٹائرڈ ملازمین کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کے ایجنڈے پر ارکان گورننگ باڈی نے کہا کہ اس پر سیسی کے موجودہ قانون کے مطابق انھیں سہولت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں حکومت سندھ کے فیصلہ کے مطابق آئندہ سیسی میں جونئیر کلرک کی بھرتی کے لئے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن اور کمپیوٹر کی تعلیمی قابلیت کو لازمی قرار دیا گیا اجلاس میں بینظیر مزدور کارڈز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور ارکان گورننگ باڈی کی جانب سے اس سلسلے میں مزدوروں کو درپیش مسائل پر توجہ دلائی گئی.

اس موقع پر چیئرمین گورننگ باڈی و صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ بینظیر مزدور کارڈز کے اجراء میں درپیش مسائل کو فوری دور کیا جائے اور اس کام کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کمشنر سیسی کو ہدایات دی کہ ارکان گورننگ باڈی کی جانب سے اس پر اٹھائے گئے تحفظات کو دور کرنے کے لئے آئندہ گورننگ باڈی اجلاس سے قبل نادرا کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کیا جائے۔ گورننگ باڈی کے اجلاس میں دیگر انتظامی امور پر اہم فیصلے کئے گئے جب کہ سوشل سیکورٹی ایکٹ کی سیکشن 75 میں تبدیلی سمیت کچھ امور کو مکمل تفصیلات کے گورننگ باڈی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گورننگ باڈی اجلاس میں سیسی کے کے لئے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ