جی بی پاورکمیٹی اجلاس، وزیراعلیٰ یارمحمد کا اسپیشل لائنز فوری ختم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
گلگت:(نیوزڈیسک) گلگت بلتستان کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد کی زیر صدارت پاور کمیٹی کے اجلاس میں اسپیشل لائنیں فوری ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سرکاری ملازمین دو ہفتوں میں گھروں پر میٹرز نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے اور مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کی زیر صدارت پاور اسٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا اور نگراں وزیراعلیٰ نے اسپیشل لائنوں کے فوری خاتمے کا حکم دیا اور گلگت بلتستان میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔
اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یارمحمد نے کہا کہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے اور مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے تینوں بڑے شہروں میں بجلی کی مساوی تقسیم، غیر قانونی برقی آلات کے خلاف کریک ڈاؤن اور محلے کی سطح پر کنزرویشن کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی اور غیر قانونی بجلی کے کنکشنز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین دو ہفتوں میں گھروں پر میٹرز نصب کریں، بغیر میٹر بجلی استعمال کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی۔
جسٹس (ر) یار محمد نے کہا کہ صوبائی ٹاسک فورس کنزرویشن کمیٹیوں کی نگرانی کرے، محکمہ برقیات لوڈ مینجمنٹ اور شیڈول پر سختی سے عمل کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا حکم
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔