چالان کا خوف! گدھا بھی ہیلمٹ پہن کر سڑک پر نکل پڑا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پنجاب میں غیر لائسنس یافتہ، بغیر ہیلمٹ اور کم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اس دوران درجنوں موٹر سائیکل سوار گرفتار کیے گئے اور موٹر سائیکلیں بھی تحویل میں لی گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سڑکوں پر حفاظت کو یقینی بنانے اور کم عمر ڈرائیونگ کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔اسی دوران عوام کی جانب سے ہیلمٹ پہننے کے قوانین کو لے کر سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل سامنے آیا ہے، کئی صارفین نے ویڈیوز شیئر کیں جن میں متعدد افراد کام کے دوران اور یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی ہیلمٹ پہنے نظر آئے تاکہ چالان سے بچا جا سکے۔حال ہی میں ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک گدھا گاڑی چلانے والے شخص نے نہ صرف خود ہیلمٹ پہنا ہوا ہے بلکہ اپنے گدھے کو بھی ہیلمٹ پہنایا ہوا ہے، ویڈیو بنانے والے صارف نے اس سے سوال کیا کہ آپ نے ہیلمٹ کیوں پہنا؟ جس پر اس شخص نے جواب دیا کہ میرا چالان ہوا تھا اس لیے پہنا ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر مختلف تبصرے کیے، کچھ نے کہا کہ عوام کسی کام میں سنجیدہ نہیں ہو سکتی جبکہ کئی نے زور دیا کہ ہیلمٹ پہننا ضروری ہے اور اس کا مذاق نہیں بنانا چاہیے۔علاوہ ازیں محمد حماد نامی صارف نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے مواد پر ایکشن لیا جائے کیونکہ لوگ اس قانون کا مذاق بنا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔