وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کر دی۔ایف بی آر نے گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے رولز بنا دیئے، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت قواعد میں اہم ترامیم متعارف کرا دی۔سول سرونٹ کی جگہ پبلک سرونٹ کا لفظ شامل کر دیا گیا، قواعد میں پبلک سرونٹ کی نئی تعریف بھی شامل کر دی گئی، قومی احتساب آرڈیننس کے تحت مستثنیٰ افراد شامل نہیں ہوں گے، نئے قواعد کا مقصد اثاثہ جات شیئرنگ نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔رولز کے مطابق گریڈ 17 اور اوپر کے گریڈ کے پبلک سرونٹ کو اثاثوں کی تفصیلات سالانہ پبلک کرنا ہوں گی، پبلک سرونٹ میں 17 اور اوپر کے وفاقی، صوبائی، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسران شامل ہیں، حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے افسر بھی اب پبلک سرونٹ ہی ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایس پی پی ایس سکیل پر تعینات آفیشلز کو اثاثے ڈیکلیئر کرنا ہونگے، ڈائریکٹرز، لیگل ایڈوائزرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز، سپیشل ایکسپرٹس کو اثاثہ ڈیکلئر کرنا ہونگے، جبکہ پی ایس پی پر تعینات آفیشلز کو سرکاری افسران کی طرح اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق قواعد کو جامع اور ہم آہنگ بنانے کیلئے ترامیم کی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پبلک سرونٹ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز