وادی کشمیر میں جماعتِ اسلامی کشمیر سے منسلک مختلف مقامات پر چھاپے
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن حساس انٹیلی جنس ان پُٹس کی بنیاد پر کیا جارہا ہے، جس کا مقصد امن و قانون کی صورتحال کو مزید مضبوط بنانا اور ممنوعہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں آج صبح سے پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاشی اور چھاپہ ماری کی کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ کارروائیاں نام نہاد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت ممنوعہ تنظیم جماعتِ اسلامی کشمیر سے مبینہ روابط رکھنے والے افراد اور مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے انجام دی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی ٹیموں نے امام صاحب، بٹہ گنڈ، نوپورہ، باسکچن اور کئی دیگر دیہات میں بیک وقت چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران متعدد گھروں اور دیگر جگہوں کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن حساس انٹیلی جنس ان پُٹس کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو مزید مضبوط بنانا اور ممنوعہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانا ہے۔ وہیں اننت ناگ میں بھی جماعت اسلامی کشمیر کے مقامات پر چھاپے مار کاروائی انجام دی گئی۔ اننت ناگ پولیس نے بتایا کہ یہ چھاپے ضلع میں امن و امان کو درپیش خطرات کی نشاندہی کے بعد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کسی بھی ایسے فرد یا گروہ کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لئے پرعزم ہے جو عسکریت پسندی، حریت پسندی یا اس کی کسی بھی شکل کو سہارا دینے کی کوشش کرے۔
ممنوعہ تنظیموں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں اسی ذمہ دارانہ عمل کا حصہ ہیں۔ ایسے تمام عناصر جو عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا کسی طرح کی حمایت فراہم کرتے ہیں، اُن کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ امن مخالف عناصر کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تعاون کریں تاکہ ضلع میں پائیدار امن، بھائی چارہ اور معمول کی زندگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اننت ناگ پولیس نے اعادہ کیا کہ عسکریت پسندی کے معاون ڈھانچے کے خلاف یہ مہم مستقبل میں بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی اور امن و قانون کی بحالی کے لئے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سرگرمیوں کے خلاف
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔