جامعہ کراچی کے اداروں کی نجکاری کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں، آئی ایس او جامعہ کراچی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ICCBS کی علیحدگی، نجکاری یا قبضہ گیری کے کسی بھی منصوبے کے خلاف اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ ایک پیج پر متحد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جامعہ کراچی کے وسائل پر کسی قسم کا ڈاکہ یا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان (آئی ایس او) جامعہ کراچی یونٹ کے ترجمان نے جامعہ کی زمین، وسائل، اثاثوں اور ادارہ جاتی شناخت کو نجی مفادات یا کسی خیراتی و کارپوریٹ مافیا کے سپرد کرنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ICCBS کی علیحدگی، نجکاری یا قبضہ گیری کے کسی بھی منصوبے کے خلاف اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ ایک پیج پر متحد ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جامعہ کراچی کے وسائل پر کسی قسم کا ڈاکہ یا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ آئی ایس او جامعہ کراچی یونٹ نے اس فیصلے کو تعلیمی ادارے کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات جامعہ کی خودمختاری اور علمی وقار کے منافی ہیں۔ تنظیم نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ تعلیمی ادارے کو مزید تنازعات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔