رواں سال شہر میں کوئی سنگین واردات نہیں ہوئی،ناصر آفتاب پٹھان
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قنبرعلی خان (نمائندہ جسارت) ڈی آئی جی پولیس لاڑکانہ ڈویژن رینج ناصر آفتاب پٹھان نے کہا ہے کہ رواں سال شہر میں کوئی سنگین واردات سامنے نہیں آئی، جو پولیس کی مؤثر حکمتِ عملی اور مربوط کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ پولیس نے ریگولر کرائم پر نمایاں حد تک قابو پالیا ہے۔ جبکہ جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے ضلع کشمور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے کہاکہ فصلوں کے سیزن میں عموماً جرائم بڑھ جاتے ہیں، تاہم اس حوالے سے پولیس مکمل طور پر الرٹ ہے اور مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے۔ ایک سال قبل ضلع بھر کے شہر شام ہوتے ہی سنسان ہوجاتے تھے مگر اب صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کی بدولت تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ رات گڈو جاتے ہوئے شہر میں کھلی دکانیں دیکھ کر خوشی ہوئی، یہ امن کی بحالی کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اب چھوٹے جرائم پر بھی سخت کارروائی کی جارہی ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ کچے کے علاقوں میں امن و امان مزید مضبوط بنانے کے لیے ماڈل پولیس تھانے قائم کئے جائیں گے جن کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا جس سے پولیس کی رسائی اور ردعمل بہتر ہوگا جبکہ پولیس کو بھی مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ اس کے دیرپا اثرات قائم رہیں جس کیلئے حکومت سندھ نے اچھے ریسورسز مختص کئے ہیں انہوں کہاکہ اگر دیکھا جائے کہ ایک طرف حکومت کی طرف سے ڈاکوؤں کیلئے سرنڈر پالیسی وضح کی گئی ہے تو دوسری جانب پولیس کو بھی مضبوط کرنے کا کام جاری ہے، قبائلی تنازعات کے خاتمے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی ناصر آفتاب پٹھان نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے اقدامات جاری ہیں اور جلد نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناصر ا فتاب ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔