آسٹریلیا کی سنگین جرائم کے احتساب کیلئے طالبان کیخلاف نئی پابندیوں کی تجاویز
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
آسٹریلوی حکومت نے سنگین جرائم کے احتساب کے لیے طالبان کے خلاف نئی پابندیوں کی تجاویز پیش کر دیں۔
سنگین جرائم میں ملوث افغان طالبان پر آسٹریلیا کی پابندیوں کی تجویز پر ہیومن رائٹس واچ نے حمایت کر دی۔
آسٹریلوی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر طالبان پر پابندیوں کے قوانین میں ترامیم زیر غور ہیں، نئے قوانین میں ترامیم سے افغانستان کے لیے مخصوص معیار متعارف کرائیں گے۔
آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ قوانین میں ترامیم کے ذریعے افغانستان پر سفری پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔
دوسری جانب آسٹریلوی ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم انسانی حقوق کے مجرم طالبان کے احتساب کی جانب اہم قدم ہیں۔ طالبان کی خواتین کے بنیادی حقوق پر قدغنیں جرمِ انسانیت اور صنفی ظلم وستم کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو این انسانی حقوق ماہرین طالبان کے خواتین کے خلاف منظم مظالم کو صنفی تفریق قرار دے چکے ہیں، طالبان حکام نے سول آزادیوں کو محدود کرتے ہوئے صحافیوں و کارکنان کو حراست اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔