Daily Mumtaz:
2026-06-03@06:59:13 GMT

100روپے رشوت لینے والاملزم39سال بعد باعزت بری

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

100روپے رشوت لینے والاملزم39سال بعد باعزت بری

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک) رائے پور کے اودھیا پاڑہ کی تنگ گلیوں میں ایک پرانا، بوسیدہ مکان ہے۔ تقریباً 84 سال کے جگیشور پرساد آودھیا اس گھر میں رہتے ہیں۔

اس گھر کی خستہ حال دیواروں پر نام کی تختیاں چسپاں نہیں ہیں۔ فتح کا کوئی نشان نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ دیواریں بول سکتیں تو یہ کہانی سناتیں کہ کس طرح ایک شخص نے 39 سال تک انصاف کے دروازے پر دستک دی اور آخر کار جب وہ دروازہ کھلا تو زندگی کی اکثر کھڑکیاں بند ہو چکی تھیں۔

غیر منقسم مدھیہ پردیش کے سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں کلرک کے طور پر کام کرنے والے جگیشور پرساد آودھیا کو 1986 میں 100 روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اب تقریباً 39 سال بعد عدالت نے انھیں باعزت بری کر دیا ہے۔

نظام کی بے حسی، انصاف میں تاخیر اور انسان کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کی علامت بننے والے جگیشور پرساد آودھیا کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ اب بے معنی ہے۔ میری نوکری ختم ہو گئی۔ معاشرے نے مجھ سے منھ موڑ لیا، میں اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکا، میں ان کی شادی نہیں کر سکا، رشتہ داروں نے مجھ سے قطع تعلقی کر لی، مناسب علاج نہ کروانے کی وجہ سے میری بیوی کی موت واقع ہو گئی ہے۔ اب کیا کوئی مجھے یہ سب واپس دلا سکتا ہے؟‘

وہ کرب سے یہ بات بتاتے ہیں کہ اب ’ہائیکورٹ نے مجھے بے قصور تو قرار دیا ہے مگر عدالت کی طرف سے اس سرٹیفکیٹ کا وزن اس بھاری بوجھ کے مقابلے میں بہت کم ہے جو میں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ 39 سالوں تک اٹھایا ہے۔‘

رشوت لینے سے انکار
جگیشور پرساد آودھیا بات کرتے ہوئے خاموش ہو جاتے ہیں، جیسے برسوں کے غم پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہ ایک پرانی فائل کے صفحات دکھاتے ہیں۔ ہر پیلا صفحہ۔۔۔ پھٹے ہوئے یہ صفحے ایک تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں 39 سال کی کہانی درج ہے۔

وہ دھیمی آواز میں کہتے ہیں کہ ’میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔ لیکن مجھے سب کچھ کھونا پڑا۔ اب میں کس سے کہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا؟ اب کوئی سننے والا نہیں بچا۔ میں نے ساری زندگی یہ ثابت کرنے میں لگا دی کہ میں بے قصور ہوں۔ اب جب یہ ثابت ہو گیا ہے تو کچھ بھی نہیں بچا۔ میری عمر بھی نہیں ہے۔‘

عدالتی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے جگیشور پرساد آودھیا کو انسداد بدعنوانی کے ادارے کی ایک ٹیم نے ایک قریبی چوراہے پر مبینہ طور پر 100 روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

جگیشور پرساد آودھیا کا کہنا ہے کہ ’ایک ملازم نے اپنی بقایا ادائیگی کے لیے بل تیار کرنے کے لیے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے اسے بتایا کہ اعلیٰ دفتر سے تحریری ہدایات کے بعد ہی فائل مجھ تک پہنچے گی، اور تب ہی میں بل تیار کر سکوں گا۔ اس کے بعد ملازم نے مجھے 20 روپے رشوت دینے کی کوشش کی۔ میں نے اس پر ناراضگی ظاہر کی اور اسے دوبارہ دفتر نہ آنے کو کہا‘۔

جگیشور پرساد آودھیا کا دعویٰ ہے کہ ملازم کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس نے پولیس اہلکار کے والد سے پتا نہیں کیا کہا ہو گا، واقعے کے تیسرے دن جب میں دفتر سے نکل رہا تھا، ملازم میرے پیچھے آیا اور میری جیب میں کچھ ڈال دیا۔

جگیشور پرساد آودھیا کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے کہ میں سوچ پاتا کہ کیا ہوا، سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں نے مجھے پکڑ لیا اور کہا کہ ہم چوکس لوگ ہیں اور ہم آپ کو 100 روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر رہے ہیں۔‘

جگیشور پرساد کا کہنا ہے کہ وہ دن نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے خاندان کے لیے ایک عذاب کا آغاز تھا۔

بچوں کی تعلیم کا خواب ادھورا رہ گیا
اس واقعے کے دو سال بعد جب عدالت میں چارج شیٹ پیش کی گئی تو 1988 میں انھیں معطل کر دیا گیا، وہ 1988 سے 1994 تک معطل رہے، پھر انھیں رائے پور سے ریوا ٹرانسفر کر دیا گیا۔ تقریباً ڈھائی ہزار روپے کی نصف تنخواہ پر گھر چلانا ناممکن تھا۔

ان کی بیوی اور چار بچے رائے پور میں رہتے تھے، جب کہ جگیشور پرساد آودھیا خود ریوا میں رہتے تھے۔ ترقیاں روک دی گئیں، تنخواہ میں اضافہ روک دیا گیا۔ ایک ایک کر کے چاروں بچوں کی پڑھائی میں خلل پڑا۔

ان کا چھوٹا بیٹا، نیرج، جو اس وقت صرف 13 سال کے تھے، اب ان کی عمر 52 ہو چکی ہے۔ انھیں افسوس ہے کہ ان کا بچپن وہیں، عدالت کی سیڑھیوں پر اپنے والد کی لڑائی کے دوران ضائع ہو گیا۔

اپنی آنکھوں کے کونوں کو پونچھتے ہوئے نیرج کہتے ہیں، ’مجھے تب رشوت کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا، لیکن لوگ کہتے، ’یہ رشوت لینے والے کا بیٹا ہے۔‘ بچے مجھے چھیڑتے تھے کہ میں سکول میں دوست نہیں بنا سکتا تھا، محلے کے دروازے بند تھے، رشتہ داروں نے تعلق توڑ لیا، فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے مجھے کئی بار سکول سے نکال دیا گیا تھا۔

اوادھیا کی بیوی اندو آودھیا نے یہ سارا بوجھ اٹھایا۔ مگر رفتہ رفتہ وہ بھی اس معاشرتی عذاب کا شکار ہو گئیں اور 24 دن سرکاری ہسپتال میں رہنے کے بعد ایک دن وفات پا گئیں۔ وہ اپنے پیچھے صرف ایک ٹوٹا ہوا خاندان چھوڑ گئی۔

جگیشور پرساد کہتے ہیں، ’میری بیوی کی وفات محض پریشانی کی وجہ سے ہوئی۔ وہ میرے رشوت خوری کے الزامات اور معطلی کی وجہ سے کافی عرصے سے افسردہ تھی، اور اس غم نے اسے توڑ دیا، میرے پاس اس کا مناسب علاج کروانے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جس دن اس کی موت ہوئی، میرے پاس آخری رسومات کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ ایک دوست نے مجھے تین ہزار روپے دیے۔‘

انصاف ملا، باقی سب کچھ کھو گیا
سنہ 2004 میں ٹرائل کورٹ نے جگیشور پرساد کو قصوروار قرار دیا۔ اگرچہ تمام گواہ اپنے بیانات سے مکر گئے تھے لیکن عدالت نے انھیں ایک سال قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

لیکن جگیشور پرساد نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ یہ مقدمہ 20 سال سے زائد عرصے تک چلا۔

اپنے خاندان کی کفالت کے لیے انھوں نے مختلف کام کیے۔ کبھی ٹریول ایجنٹ بنے تو کبھی بس ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔ بڑھاپے میں بھی انھیں روزانہ آٹھ دس گھنٹے کام کرنا پڑا۔ 100 روپے رشوت کے الزام میں انھیں تقریباً 14,000 دن تک تاریک جیل میں قید رکھا گیا۔

پھر 2025 میں وہ دن آیا، جب ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں۔

جگیشور پرساد کہتے ہیں کہ ’انصاف مل گیا، لیکن وقت واپس نہیں آیا۔ بیوی واپس نہیں آئی، بچوں کا بچپن واپس نہیں آیا۔‘

’عزت؟ شاید وہ بھی واپس نہ مل سکی۔‘

جگیشور پرساد، جو اپنے دکھ اور درد کو بھی مسکراہٹ کے ساتھ بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، اب ان کی زندگی میں صرف تھکاوٹ باقی رہ گئی ہے، اور یادیں دکھ سے بھری ہوئی ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں پھڑپھڑاتے عدالتی فیصلوں کے صفحات اب محض دستاویزات ہیں، زندگی کی وہ کتاب جس میں آدمی اپنا مستقبل لکھنا چاہتا تھا، بہت پہلے بند ہو چکی ہے۔

کیا کوئی معاوضہ ماضی کو واپس لا سکتا ہے؟
ہائیکورٹ کی وکیل پرینکا شکلا کہتی ہیں کہ جگیشور پرساد اس معاملے میں ہرجانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیسہ اس ٹوٹی ہوئی زندگی کو ٹھیک کر سکے گا؟ کیا کوئی معاوضہ ماضی کو واپس لا سکتا ہے؟ جگیشور پرساد کی کہانی صرف ایک شخص کا المیہ نہیں ہے، یہ ہمارے عدالتی نظام کا چہرہ بے نقاب کرتا ہے، جو تاخیرِ انصاف کو بھی ناانصافی سمجھتا ہے۔۔ اور جب فیصلہ آتا ہے، بہت کچھ کھو چکا ہوتا ہے۔‘

پرینکا کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں پرانے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت ہونی چاہیے اور ان میں انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ لوگوں کو جگیشور پرساد آودھیا جیسی صورتحال سے نہ گزرنا پڑے۔

جگیشور پرساد کے مقدمے میں فیصلہ 39 سال بعد آیا ہے، لیکن چھتیس گڑھ میں ایسے ہزاروں مقدمات ہیں جن میں برسوں سے کوئی سماعت نہیں ہوئی۔

چھتیس گڑھ کی مختلف عدالتوں میں گذشتہ 30 سالوں سے ایسے سینکڑوں کیس زیر التوا ہیں۔ کچھ مقدمات تقریباً 50 سال سے عدالتوں میں زیر التوا ہیں، اور ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ چھتیس گڑھ ہائیکورٹ میں آج تک 77,616 مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 19,154 مقدمات پانچ سے 10 سال کے درمیان ہیں۔ 10 سے 20 سال کی عمر کے کیسز کی تعداد 4,159 ہے۔ مزید 105 مقدمات 20 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔

سرگوجا، بلاس پور، بلودابازار اور درگ ایسے اضلاع ہیں جہاں کچھ مقدمات مقامی عدالتوں میں 30 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔

نہ شکایت کرنے والا بچتا ہے نہ ملزم
تارابائی بمقابلہ بھگوان داس کیس 1976 سے درگ ضلع کی مقامی عدالت میں زیر التوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ کیس تقریباً 50 سال سے چل رہا ہے۔ نہ تو تارا بائی، جس نے مقدمہ درج کیا تھا، نہ بھگوان داس، جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، زندہ ہیں۔ تاہم، کیس زیر التوا ہی رہتا ہے۔

اسی طرح ایک مقدمہ سرگوجا ضلع کے امبیکاپور کی مقامی عدالت میں 1979 سے یعنی 46 سال سے زیر التوا ہے۔

نند کشور پرساد بمقابلہ جگن رام اور دیگر کے اس کیس کے بارے میں آن لائن دستیاب معلومات کے مطابق گذشتہ 10 سالوں میں یعنی 2015 سے 2025 کے دوران 291 بار تاریخیں دی جا چکی ہیں، لیکن ابھی تک کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

ایک بار حتمی فیصلہ آنے کے بعد اسے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مقدمہ کئی سالوں تک وہاں زیر التوا رہ سکتا ہے۔

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس یتندرا سنگھ نے افسوس کا اظہار کیا کہ چھتیس گڑھ کی عدالتوں میں اتنے عرصے سے مقدمات زیر التوا ہیں۔

انھوں نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی کئی وجوہات ہیں: فائدہ اٹھانے والی پارٹی نہیں چاہتی کہ مقدمات کا فیصلہ ہو۔ دوسرا، جج بھی پرانے مقدمات کو نہیں چھیڑتے جب تک کہ کسی فریق، چیف جسٹس یا قائم مقام جج کے ذریعے ایسا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔‘

جگیشور پرساد اب چاہتے ہیں کہ حکومت کم از کم انھیں ان کی پنشن اور واجبات ادا کرے۔ انھیں کوئی انصاف نہیں چاہیے، بس یہ راحت کہ جن ہاتھوں نے ساری زندگی اتنی محنت کی ہے وہ اب بھیک مانگنے کے لیے نہ اٹھ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: زیر التوا ہیں عدالتوں میں کہتے ہیں کہ رشوت لینے روپے رشوت چھتیس گڑھ کی وجہ سے بھی نہیں واپس نہ دیا گیا سکتا ہے سال بعد نے مجھے کہ میں کے بعد کے لیے سال سے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی