قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان آغا کا گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کی گئی اہلیہ کی معنی خیز پوسٹ پر ردعمل سامنے آگیا۔

سہ ملکی سیریز کے آغاز سے قبل پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سلمان آغا سے پوسٹ سے متعلق سوال کیا کہ وہ کیا بات ہے جو صرف آپ اور بابر ہی جانتے ہیں۔

جس پر سلمان آغا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’ابھی وقت نہیں آیا‘۔

صحافی @ArfaSays_ نے جب سلمان علی آغا سے اہلیہ کی بابر اعظم سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کا سوال کیا تو سلمان علی اغا نے جواب دیا کہ ابھی دلوں کی بات بتانے کا ٹھیک وقت نہیں آیا۔ !!!!!#BabarAzam #SalmanAliAgha https://t.

co/hhm4cmZsGq pic.twitter.com/R3rRGLUndp

— Kiran Khan (@HelloKiranKhan) November 17, 2025

یاد رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے سری لنکا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں سنچری اسکور کی تھی۔

یہ 83 اننگز کے طویل انتظار کے بعد ان کی پہلی انٹرنیشنل سنچری تھی۔ میچ کے بعد سلمان آغا نے بھی بابر اعظم کو گلے لگا کر مبارکباد دی تھی۔

سلمان آغا کی اہلیہ صبا سلمان نے انسٹاگرام پر اسٹوری میں سلمان آغا کی بابر اعظم کو گلے لگائے ایک ہوئے تصویر شیئر کی تھی۔

انہوں نے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ان دو کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، شاید کبھی وہ لوگوں کے بتادیں لیکن فی الحال بابر بھائی کو کامیابی پر مبارکباد، سلمان آغا میں آپ کو ہمیشہ ایک سچا دوست ملے گا‘۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل