اہلیہ کی سوشل میڈیا پر معنی خیز پوسٹ، سلمان آغا کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان آغا کا گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کی گئی اہلیہ کی معنی خیز پوسٹ پر ردعمل سامنے آگیا۔
سہ ملکی سیریز کے آغاز سے قبل پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سلمان آغا سے پوسٹ سے متعلق سوال کیا کہ وہ کیا بات ہے جو صرف آپ اور بابر ہی جانتے ہیں۔
جس پر سلمان آغا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’ابھی وقت نہیں آیا‘۔
صحافی @ArfaSays_ نے جب سلمان علی آغا سے اہلیہ کی بابر اعظم سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کا سوال کیا تو سلمان علی اغا نے جواب دیا کہ ابھی دلوں کی بات بتانے کا ٹھیک وقت نہیں آیا۔ !!!!!#BabarAzam #SalmanAliAgha https://t.
یاد رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے سری لنکا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں سنچری اسکور کی تھی۔
یہ 83 اننگز کے طویل انتظار کے بعد ان کی پہلی انٹرنیشنل سنچری تھی۔ میچ کے بعد سلمان آغا نے بھی بابر اعظم کو گلے لگا کر مبارکباد دی تھی۔
سلمان آغا کی اہلیہ صبا سلمان نے انسٹاگرام پر اسٹوری میں سلمان آغا کی بابر اعظم کو گلے لگائے ایک ہوئے تصویر شیئر کی تھی۔
انہوں نے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ان دو کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، شاید کبھی وہ لوگوں کے بتادیں لیکن فی الحال بابر بھائی کو کامیابی پر مبارکباد، سلمان آغا میں آپ کو ہمیشہ ایک سچا دوست ملے گا‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔