حسینہ واجد پر انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے کا فیصلہ کل سنایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
عوامی لیگ نے مقدمے کے خلاف احتجاج کے لیے ملک گیر "لاک ڈاؤن" کا اعلان کر رکھا ہے۔ کشیدگی کے پیش نظر حکومت نے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے اور دارالحکومت میں 400 فوجیوں کو بھی تعینات کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمے کا فیصلہ کل سنایا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ ہے۔ استغاثہ نے حسینہ کے لیے سزائے موت کی درخواست کر رکھی ہے۔ شیخ حسینہ واجد پر 2024ء میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات دینے اور وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کا الزام ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مظاہروں کے دوران 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب شیخ حسینہ کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے سے قبل بنگلہ دیش میں پرتشدد واقعات کی لہر جاری ہے، کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عوامی لیگ نے مقدمے کے خلاف احتجاج کے لیے ملک گیر "لاک ڈاؤن" کا اعلان کر رکھا ہے۔ کشیدگی کے پیش نظر حکومت نے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے اور دارالحکومت میں 400 فوجیوں کو بھی تعینات کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔