ایف آئی اے کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کمپوزٹ سرکل لاڑکانo نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیاں کرنے والے گروہ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے جعلی ٹریفک چالان تک، اسکیمرز شہریوں کو کیسے لوٹ رہے ہیں؟
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چھاپہ بس اسٹینڈ لاڑکانہ پر مارا گیا، جہاں ملزمان عبدالطیف اور مظہر حیدر مستحق خواتین کو ملنے والی مالی امداد میں سے فی کس 1000 سے 1500 روپے غیر قانونی کمیشن کے طور پر کاٹ رہے تھے۔ دونوں ملزمان کو کمیشن وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔
کارروائی کے دوران ملزمان سے لاکھوں روپے نقدی، موبائل فونز، بینک کنیکٹ ڈیوائسز اور دیگر متعلقہ مواد برآمد کیا گیا۔ ایف آئی اے نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنارہا ہے، اس سے بچنا چاہیے، رانا مشہود
ترجمان کے مطابق نادرا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے شہریوں کے واجبات میں کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایف آئی اے کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔