شدید دھند کی وجہ سے موٹر وے ایم ون پشاور سے رشکئی تک بند
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
پشاور:
موٹر وے پولیس نے شدید دھند اور حد نگاہ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے موٹروے ایم ون پشاور سے رشکئ تک بند کر دی۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم ون بند کردی گئی ہے، موٹروے بند کرنے کا مقصد حادثات سے بچاؤ اور موٹروے استعمال کرنے والوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔
ترجمان نے کہا کہ شہریوں سے درخواست ہے کہ دھند کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اپنا سفر دن کی روشنی میں مکمل کر کے دھند کے آغاز سے پہلے اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔
شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاڑیوں میں فوگ لائٹس کا استعمال کریں، تیز رفتاری سے پرہیز کریں اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ معمول سے زیادہ رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ سفر شروع کرنے سے پہلے موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، اس کے علاوہ موٹروے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔