سرحد پار سے دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے درندے ہیں، ان کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم ٹی ٹی پی کو نہیں مانتے، ملک میں امن تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، محسن نقوی کا واضح پیغام
ہمارے مقامی شہری حملوں اور دھماکوں میں ملوث نہیں ، ناراضگی ہوسکتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ملک کیخلاف اسلحہ اٹھایا جائے یا تحریک چلائی جائے،کیڈٹ کالج وانا کا دورہ،قبائلی عمائدین سے گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی ہو رہی ہے، فیلڈ مارشل نے واضح پیغام دیدیا کہ دہشت گردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے درندے ہیں، ان کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وانا میں قبائلی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ملک میں امن تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، سرحد پار سے دہشتگردی ہورہی ہے، اسلام آباد کچہری حملے میں بھی افغان دہشتگرد ملوث ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے مقامی شہری حملوں اور دھماکوں میں ملوث نہیں ہیں، ناراضگی ہوسکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے خلاف اسلحہ اٹھایا جائے یا تحریک چلائی جائے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح پیغام دیا کہ دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین نے کہا کہ پاک فوج دن رات ہماری حفاظت کیلئے قربانیاں دے رہی ہے، علاقے میں تعمیر ترقی پر حکومت کے شکر گزار ہیں، حکومت ہمارے بچوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کررہی ہے، ہم کسی بھی قسم کی دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتے، ہم ٹی ٹی پی کو نہیں مانتے۔ قبل ازیں فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیڈٹ کالج وانا کا دورہ کیا جہاں آئی جی فرنٹیٔر کور خیبرپختونخوا ساوتھ میجر جنرل مہر عمر خان نے ان کا استقبال کیا، انہوں نے خوارجیوں کا حملہ ناکام بنانے اور تمام کیڈٹس و اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرنے والے پاک فوج کے بہادر افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ محسن نقوی نے کالج کے طلبا اور اساتذہ سے بھی ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے اور جذبے کی تعریف کی، انہیں خوارجیوں کے حملے کی تفصیلات اور پاک فوج و ایف سی کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب ریسکیو آپریشن پر بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیر داخلہ نے پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں کی جرات، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اصل میں دہشت گرد بھی نہیں، یہ درندے ہیں جن کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کوئی بھی مذہب بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ان درندوں کا کوئی مذہب نہیں، ان کو انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔ یہ بھی پڑھیں:انڈین آرمی چیف کا بیان ،دہلی میں کھلبلی مچ گئی انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام طلبا اور اساتذہ کو بحفاظت نکال کر بہادری اور پروفیشنل ازم کی شاندار مثال قائم کی، دشمن کا منصوبہ سانحہ اے پی ایس جیسی کارروائی دہرانا تھا، تاہم دلیر جوانوں نے حملہ ناکام بنا کر خوارجیوں کو جہنم واصل کیا اور سازش کو پوری طرح خاک میں ملا دیا۔ وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ کیڈٹ کالج وانا کی بہترین انداز میں تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ طلباء کو معیاری اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے، تمام طلباء کو بحفاظت ریسکیو کرنے والے پاک فوج اور ایف سی کے افسر و جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں، جن پر پاکستان کو فخر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے وزیر داخلہ کرنے والے کیڈٹ کالج پاک فوج سے کوئی ایف سی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔