صوبہ بھر میں سموگ کریک ڈاؤن؛ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائیوں کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
علی ساہی: پنجاب بھر میں سموگ کے خاتمے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کیلئے ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکموں کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر کی ہدایت پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق رواں ماہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو 97 ملین روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کارروائیوں میں 85 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
اعداد و شمار کے مطابق:48 ہزار 400 سے زائد دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو چالان جاری کئے گئے،7 ہزار 700 سے زائد گاڑیاں موقع پر بند کی گئی،دھواں چھوڑنے پر 10 گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کر دیئے گئے،ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر 16 سے زائد گاڑیوں کے روٹ پرمٹ معطل کر دیا گیا،7 گاڑیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں،2100 سے زائد ریت اور مٹی لادنے والی آن کورڈ ٹرالیاں بھاری جرمانوں کا شکار بنیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گاڑیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت کو یقینی بنائیں تاکہ سموگ میں کمی لانے کی کوششیں کامیاب ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو سموگ فری بنانے کیلئے تمام سٹاف کو پوری طرح متحرک کیا گیا ہے۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔