تکبر بربادی جبکہ ہوش، عاجزی اور خود احتسابی ہی اصل راستہ ہے، آغا سید روح اللہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے اپنے ماموں اور این سی امیدوار آغا سید محمود کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ انتخاب کے روز وہ سرکاری دورے پر جرمنی میں تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بڈگام ضمنی انتخاب میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ہاتھوں نیشنل کانفرنس (این سی) کی شکست کے چند منٹ بعد ہی پارٹی کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے ایک دوٹوک پیغام جاری کر دیا جس میں انہوں نے این سی کی ہار کو "تکبر" کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا "تکبر تباہی کی جڑ ہے"۔ آغا سید روح اللہ نے گزشتہ برس این سی کی ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن میں جیت حاصل کی تاہم ان کے اور پارٹی کے مابین رسہ کشی اب عوامی سطح پر عیاں ہو چکی ہے۔ سید روح اللہ نے قرآنی کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تکبر انسان کو بربادی کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ ہوش، عاجزی اور خود احتسابی ہی اصل راستہ ہے۔ اگرچہ انہوں نے نام لے کر نہ اپنی پارٹی کا ذکر کیا اور نہ وزیراعلیٰ کا، لیکن ان کا اشارہ صاف طور پر نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت ہی کی طرف سمجھا گیا۔
ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے اپنے ماموں اور این سی امیدوار آغا سید محمود کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ انتخاب کے روز وہ سرکاری دورے پر جرمنی میں تھے۔ گیارہ نومبر کو منعقد ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج جمعہ کو مشتہر ہوئے جس جس میں دونوں نشستوں پر ووٹرز کے بدلتے رجحانات صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ بڈگام میں این سی کی شکست اور پی ڈی پی کی کامیابی کے فوراً بعد بڈگام ٹاؤن میں پی ڈی پی حامیوں کے ساتھ ساتھ آغا سید روح اللہ کے حامیوں نے بھی نہ صرف جشن منایا بلکہ آغا روح اللہ کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ وہیں آغا سید روح اللہ نے بھی فوری طور پر رد عامل ظاہر کرتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ پر این کا نام لئے بغیر ان کی سخت مذمت کی۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آغا سید روح اللہ کے اس طرز عمل کو "سیاسی خودکشی" سے تعبیر کرتے ہوئے پارٹی میں کئی تبدیلیوں کا عندیہ دیا۔ ادھر این سی حکومت کی ساجھے دار کانگریس پارٹی، کے جموں و کشمیر یونٹ صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ انتخابی نتیجہ اس ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے جو عوام کو اس بات پر ہوئی کہ وزیراعلیٰ نے بڈگام چھوڑ کر گاندربل کی نشست برقرار رکھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ حکومت سے کارکردگی نہ دکھائے جانے پر ناراض ہیں۔ بھاجپا لیڈر اور اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما نے بھی بڈگام میں این سی کی شکوت کو "شیخ عبداللہ خاندان کی شکست" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال میں ہی نوجوان، خواتین اور عام لوگ عمر عبداللہ سے ناراض ہو چکے ہیں کیونکہ اس خاندان نے صرف اقرباء پروری اور بدعنوانی کو فروغ دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا غا سید روح اللہ نے انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔