جوا ایپ کی تشہیر کے معاملے میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی درخواست پر بڑی پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
جوا ایپ کی تشہیر کے معاملے میں یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کردی گئی۔
جسٹس شہرام سرور پیر کو سماعت کریں گے، جسٹس فاروق حیدر نے کیس سننے سے معذرت کرلی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی رشوت کیس: این سی سی آئی کے گرفتار 7 افسران مستعفی
درخواست میں این سی سی آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے جوئے کی ایپ کے پروموشن کے مقدمے میں ضمانت دائر کر رکھی ہے۔
موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو بیرون جاتے ہوئے این سی سی آئی اے نے ائیرپورٹ سے گرفتار کیا، این سی سی آئی اے نے کبھی نوٹس بھجوا کر طلب نہیں کیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ درخواست جسمانی ریمانڈ پر دس روز تک این سی سی آئی اے کی تحویل میں رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے ڈکی بھائی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔