سیاسی صورتحال اور دیگر عوامل کے باوجود پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے تیزی رہی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ مجموعی طور پر مندی اور تیزی کے ملے جلے رجحان کا شکار رہی، تاہم 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے باعث ابتدائی دنوں میں مارکیٹ میں دباؤ دیکھا گیا۔
بعد ازاں انسٹیٹیوشنز اور میوچل فنڈز کی جانب سے خریداری کے بڑھتے رجحان نے اعتماد کی فضا بحال کی۔ اپ سائیڈ پرافٹ ٹیکنگ کے باوجود مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی غالب رہی جس کے نتیجے میں اہم نفسیاتی حدیں 160000 اور 161000 پوائنٹس دوبارہ بحال ہو گئیں۔
ہفتے کے دوران بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی نے حصص بازار پر جزوی دباؤ ڈالا، تاہم متعدد مثبت عوامل نے مجموعی ماحول کو سہارا دیا۔ تین فرٹیلائزر کمپنیوں کو نئے گیس ذخائر سے فراہمی کی منظوری ملنے سے متعلقہ شعبوں میں سرگرمی بڑھی جبکہ دسمبر میں آئی ایم ایف کی اگلی قسط کی منظوری یقینی ہونے سے بنیادی عوامل مضبوط رہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دسمبر تک مکمل ہونے کی پیش رفت نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا۔
ہفتہ وار کاروبار کے 5 سیشنز میں سے 4 میں تیزی جبکہ ایک میں مندی ریکارڈ ہوئی۔ تیزی کے رجحان کے نتیجے میں مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں ایک کھرب 46 ارب 99 کروڑ 95 لاکھ 61 ہزار 596 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے مجموعی سرمایہ بڑھ کر 184 کھرب 33 ارب 83 کروڑ 33 لاکھ 11 ہزار 932 روپے تک پہنچ گیا۔
انڈیکس کی کارکردگی کے مطابق 100 انڈیکس 2342.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔