data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:  گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ مجموعی طور پر مندی اور تیزی کے ملے جلے رجحان کا شکار رہی، تاہم 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے باعث ابتدائی دنوں میں مارکیٹ میں دباؤ دیکھا گیا۔

بعد ازاں انسٹیٹیوشنز اور میوچل فنڈز کی جانب سے خریداری کے بڑھتے رجحان نے اعتماد کی فضا بحال کی۔ اپ سائیڈ پرافٹ ٹیکنگ کے باوجود مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی غالب رہی جس کے نتیجے میں اہم نفسیاتی حدیں 160000 اور 161000 پوائنٹس دوبارہ بحال ہو گئیں۔

ہفتے کے دوران بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی نے حصص بازار پر جزوی دباؤ ڈالا، تاہم متعدد مثبت عوامل نے مجموعی ماحول کو سہارا دیا۔ تین فرٹیلائزر کمپنیوں کو نئے گیس ذخائر سے فراہمی کی منظوری ملنے سے متعلقہ شعبوں میں سرگرمی بڑھی جبکہ دسمبر میں آئی ایم ایف کی اگلی قسط کی منظوری یقینی ہونے سے بنیادی عوامل مضبوط رہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دسمبر تک مکمل ہونے کی پیش رفت نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا۔

ہفتہ وار کاروبار کے 5 سیشنز میں سے 4 میں تیزی جبکہ ایک میں مندی ریکارڈ ہوئی۔ تیزی کے رجحان کے نتیجے میں مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں ایک کھرب 46 ارب 99 کروڑ 95 لاکھ 61 ہزار 596 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے مجموعی سرمایہ بڑھ کر 184 کھرب 33 ارب 83 کروڑ 33 لاکھ 11 ہزار 932 روپے تک پہنچ گیا۔

انڈیکس کی کارکردگی کے مطابق 100 انڈیکس 2342.

29 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 161935.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر