تنقید کا جواب نہیں دوں گا، میری پوری توجہ صرف کرکٹ پر ہے: بابر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر اور سابق کپتان بابر اعظم نے اپنی حالیہ سنچری اور ٹیم کی شاندار کامیابی کے باوجود ناقدین کو کسی سخت ردِعمل کے بجائے پرسکون انداز میں واضح کیا ہے کہ ان کی ساری توجہ صرف اور صرف کرکٹ اور گراؤنڈ میں بہترین کارکردگی دکھانے پر مرکوز ہے۔
راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی 8 وکٹوں سے فتح کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر بابر اعظم نے کہا کہ وہ تنقید کا جواب میدان میں کارکردگی سے دینا پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنچری اسکور کرنے کے بعد میرا اعتماد بحال ہوا ہے اور میں جانتا تھا کہ اپنی فُرم اور مہارت کے بل پر دوبارہ بڑی اننگز کھیل سکتا ہوں۔
بابر اعظم نے مداحوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برے وقت میں فینز نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا، جس سے انہیں حوصلہ اور توانائی ملی، وہ پہلے سے طے شدہ ٹارگٹ کے تحت بیٹنگ کرنے میدان میں اترے تھے، اور خوشی ہے کہ وہ اس مقصد میں کامیاب رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کارکردگی کے لحاظ سے مشکل ضرور رہے، مگر انہوں نے اس عرصے میں اپنی فِٹنس، بیٹنگ اور فیلڈنگ پر بھرپور محنت کی اور مشکل وقت میں خود اعتمادی کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
سری لنکا کے خلاف دوسرے ون ڈے میں سنچری اسکور کرکے بابر اعظم نے پاکستان کے عظیم اوپنر سعید انور کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ سعید انور نے اپنے کیریئر میں 244 اننگز میں 20 ون ڈے سنچریاں بنائی تھیں، جبکہ بابر اعظم نے یہ سنگِ میل صرف 136 اننگز میں عبور کرلیا، جس کے ساتھ وہ کم سے کم اننگز میں 20 سنچریاں مکمل کرنے والے دنیا کے تیسرے تیز ترین بیٹر بن گئے ہیں۔
بابر اعظم کی واپسی نے نہ صرف ٹیم کو نئی تقویت دی ہے بلکہ ان کی فارم بحال ہونے سے آئندہ میچوں میں بھی مضبوط کارکردگی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔