خیبرپختونخوا میں دہشت گردی خود ساختہ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور توانائی کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی خود ساختہ ہے اور وفاق کی جانب سے این او سی اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے صوبے کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
لوئردیر میں 41 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کوٹو ہائیڈیل پاور پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں سستی بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور سابق بانی حکومت کے شروع کردہ منصوبے صوبے کی ترقی کے لیے اہم بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے این او سی نہ ملنے اور وفاق کی طرف سے 3 ہزار ارب روپے کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، اور وفاق کی بروقت معاونت سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 21.
سہیل آفریدی نے کہا کہ صاف اور سستی توانائی کے یہ منصوبے روزگار کے فروغ اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ صوبے کی پہلی پاور ٹرانسمیشن لائن بچھائی جا رہی ہے جو 11 ہائیڈرو منصوبوں کی پیداوار کو صنعتوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی پاور ہاؤسز سے پیدا ہونے والی بجلی صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائے گی اور صوبائی حکومت اپنے ڈسٹری بیوشن سسٹم کے لیے مکمل سپورٹ فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے، لیکن غیر ملکی انجینیئرز کے منصوبوں کے لیے این او سی نہ ملنے کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کے اہم منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں، جس کا نقصان نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے دل میں عوام کے لیے درد ہے اور ان کے شروع کردہ تمام منصوبے عوام کی بھلائی کے لیے ہیں، چاہے افتتاح کے وقت حکومت کسی کی بھی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ارب روپے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔