خیبرپختونخوا میں منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی صدارت میں منشیات کے تدارک سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ نے منشیات کے سپلائرز اور مینوفیکچررز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایت جاری کی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ منشیات کی لعنت جامعات تک پہنچ چکی ہے، مزید غفلت کے متحمل نہیں ہوسکتے، نوجوان نسل کو منشیات بالخصوص ہیروئن اور آئس سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منشیات کی تیاری اور ترسیل کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور محکموں و اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ بڑے سپلائرز اور ڈیلرز کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے اور کارروائیاں نتیجہ خیز اور حقائق پر مبنی ہونی چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے افسران کو تاکید کی کہ خواہ مخواہ کسی کو تنگ نہ کیا جائے، صرف حقیقی بنیادوں پر کارروائی کی جائے، حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
مزید برآں، وزیراعلیٰ نے ضبط شدہ منشیات کو تلف کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ دوبارہ مارکیٹ میں نہ آسکیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں ایکسائز فورس کو مستحکم بنانے کے لیے 55 کروڑ روپے کے مجوزہ پلان کی منظوری بھی دی گئی، جس میں آپریشنل استحکام، آئی ٹی آلات کی خریداری اور تربیتی پروگرامز شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ساتھ ہی غیرمجاز اور ریٹائرڈ افسران سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے لیے پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت بھی جاری کی اور کہا کہ پالیسی نفاذ میں تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: منشیات کے کی ہدایت کے خلاف
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔