افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اگر افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں ہمیں شامل کیا جاتا ہے تو فائدہ ہو گا افغانستان کے ساتھ جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے ۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوااسمبلی میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ پاک افغان مذاکرات کو خیبرپختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں نے خوش آئند قرار دیاتھا،پاک افغان مذاکرات کے اثرات ڈائریکٹ خیبرپختونخوا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
وادی نیلم میں موسمِ سرما کی پہلی بارش اور برفباری سے سردی میں اضافہ
ان کاکہناتھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے لوگوں کا مذہب، زبان،ثقافت ، روایات مشترکہ ہیں،اگر آپ خیبرپختونخوا کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مذاکرات میں استعمال کریں تو یہ مثبت نتائج دیں گے۔
سہیل آفریدی کاکہناتھا کہ اگر ہم یہ بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی کی طرفداری کررہے ہیں،ہم پاکستانی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن ہو،جن ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ان کو بگاڑا نہ جائے،اگر کسی چیزکا حل جنگ ہی ہے تو وہ آخری آپشن ہونا چاہئے۔
???? افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اگر افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں ہمیں شامل کیا جاتا ہے تو فائدہ ہو گا افغانستان کے ساتھ جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے ۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی pic.
بلوچستان کے دیہی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس 16 نومبر تک بند کردی گئی ، شہری علاقے مستثنیٰ
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے ہولڈرز کو شامل کیا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔