ہمارے بندے کے ساتھ جو ہوا، اس کے بعد حکومت کسی تعاون کی امید نہ رکھے، رہنما جے یو آئی کامران مرتضیٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینے والے جمیعت علما اسلام کے سینیٹرنے اگر چند روز میں استعفیٰ دیدیا تو ٹھیک ہے ورنہ ان کے خلاف آرٹیکل 63 کے تحت کارروائی شروع کردی جائے گی۔
آے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما جے یو آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کی جماعت کے سینیٹر کو ہمنوا بنانے پر مولانا فضل الرحمان کی واپسی پر یقیناً گلہ کریں گے۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ہر دو طرف واضح کردیا گیا تھا کہ وہ ہمارے افراد پر ہاتھ نہ ماریں لیکن اس کے باوجود یہ کیا گیا۔ ’میں تو گلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔۔۔ جو گلہ کرنیوالے ہیں وہ یقیناً کریں گے اور شاید بات گلے سے آگے بھی جاسکتی ہے۔‘
کیا 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں جے یو آئی کے سینیٹر کی شمولیت سے حکومت سے دوری بڑھ گئی ہے؟ کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم پر ان کے ساتھ معاہدہ تھا جو ریورس ہونے کے بعد معاملات بگڑنا شروع ہوگئے تھے۔
’اب جو کچھ ہمارے بندے کے ساتھ ہوا ہے اس کے بعد اب ان کے پاس ایسا جواز نہیں رہتا کہ مولانا کے پاس تشریف لائیں۔۔۔یقیناً انہیں کسی تعاون کی امید نہیں رکھنی چاہیے ورنہ تو یہ تاثر جائے گا کہ ہم ملے ہوئے تھے اور اپنا بندہ خود دیا تھا۔‘
سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جو کام بھٹو صاحب نہ کرسکے یا ان کی سمجھ میں نہیں آئی وہ آج کی پیپلز پارٹی نے کردیا۔
27ویں ترمیم پر بحث میں حصہ نہ لینے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی مسودے کو پوری پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھنا پڑتا ہے، انہوں نے کمیٹی کے اجلاس میں عجلت اور مسودے سے آگاہی نہ ہونے کا بھی گلہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں آئینی ترمیم جمعیت علما اسلام سینیٹر کامران مرتضیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم جمعیت علما اسلام سینیٹر کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ کامران مرتضی
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔