خیبر پختونخوا کابینہ کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت پہلا اجلاس: 53 نکاتی ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس 14 نومبر کو طلب کر لیا گیا ہے، جس کا تفصیلی 53 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں 10 وزرا، ایک معاونِ خصوصی اور دو مشیروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ کابینہ کے ایجنڈے میں امن جرگے کے اعلامیہ کی باضابطہ منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جو حالیہ سیاسی صورتحال اور قبائلی علاقوں میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ڈسٹرکٹ سیشن ججز کے لیے 25 سرکاری گاڑیاں تبدیل کرنے کی تجویز زیر غور آئے گی۔ اسی طرح سوات ایکسپریس وے کے ٹول ٹیکس میں 20 فیصد اضافے کی سفارش بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ یہ اضافہ صوبائی محصولات بڑھانے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور شدہ مختلف قراردادیں بھی شامل ہیں جن پر عملی اقدامات کی منظوری لی جائے گی تاکہ ان فیصلوں کو زمینی سطح پر نافذ کیا جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کے لیے وی آئی پی گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری کا امکان ہے، جب کہ صوبے میں زراعت اور دیہی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ایک کسان، ایک گائے منصوبہ باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد کسانوں کو خود کفیل بنانا اور دیہی معیشت کو فعال کرنا ہے۔
اجلاس میں تیراہ اور شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے خصوصی فنڈز کے اجرا کی منظوری بھی متوقع ہے تاکہ ان علاقوں کی بحالی اور ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے لیے بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی جائیں گی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبائی نظم و نسق، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور امن و امان کی بہتری سے متعلق نئی ہدایات جاری کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اجلاس میں کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔